(حذر اے چیرہ دستاں.....) قومِ لوط کے مدفن پر’’پرائڈلینڈ‘‘ - رانا عرفان علی

10 /
قومِ لوط کے مدفن پر ’’پرائڈ لینڈ‘‘
رانا عرفان علی
 
ایک گمشدہ تہذیب کی آخری رات: ہم جنس پرستی کا آغاز
ایک پُررونق شام تھی۔ سرسبز و شاداب باغیچے‘ چمکتے ہوئے محل اور دولت کی فراوانی۔ سدوم اور عمورہ کی بستیوں میں زندگی عروج پر تھی۔ وہاں کے لوگ اپنے وقت کے امیر ترین تاجر تھے‘ جن کے پاس مادی آسائشوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ البتہ اس ظاہری چمک دمک کے نیچے ایک ایسا اخلاقی سڑاند چھپا تھا جس نے پوری انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ یہ وہ بدبخت لوگ تھے جنہوں نے انسانی تاریخ میں پہلی بار’’ہم جنس پرستی‘‘ (Homosexuality) اور بدفعلی جیسے گھناؤنے اور غیر فطری گناہ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو بدل ڈالا۔اپنی پاکیزہ بیویوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ علانیہ جنسی تسکین حاصل کرنے لگے اور حیا و پاکیزگی کا مذاق اڑایا۔
قرآنِ حکیم ان کے اس بدترین اخلاقی جرم کا نقشہ حضرت لوط  علیہ السلام  کی زبانی یوں پیش کرتا ہے:
{اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآئِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)} (الاعراف)
’’کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے آتے ہو‘ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘‘
حضرت لوط    علیہ السلام   بستی کے چوک پر کھڑے ہو کر روزانہ انہیں پکارتے اور اس غیر فطری جنسی انارکی کے خلاف خبردار کرتے تھے‘ مگر وہ قہقہے لگاتے‘ پاکیزہ لوگوں کو بستی سے نکالنے کی دھمکیاں دیتے اور کہتے: ’’اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہم پر اپنے خدا کا عذاب!‘‘ اور پھر وہ آخری رات آن پہنچی۔ بستی ہمیشہ کی طرح ہم جنس پرستی کے نشے اور عیاشی میں دھت تھی کہ اچانک فضا میں ایک ایسی ہول ناک چیخ گونجی جس نے انسانوں کے دلوں کو پھاڑ کر رکھ دیا۔ زمین زلزلے سے کانپنے لگی اور اگلے ہی لمحے کائنات کے مالک کا حکمِ قہار آ گیا۔ زمین کے اس پورے ٹکڑے کو جڑ سے اکھاڑا گیا‘ آسمان کی بلندیوں تک اٹھایا گیا اور پھر ایک ہول ناک جھٹکے کے ساتھ پوری بستی کو الٹ کر زمین پر پٹخ دیا گیا! قرآن گواہی دیتا ہے:
{فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ لا مَّنْضُوْدٍ(۸۲)} (ھود)
’’پھر جب ہمارا حکم آ گیا‘ تو ہم نے ان بستیوں کے بلند حصے کو ان کا نچلا حصہ بنا دیا (انہیں الٹ دیا) اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔‘‘ 
اس مہیب عذاب کے نتیجے میں زندگی کا ہر نشان مٹ کر راکھ ہو گیا اور وہاں صرف ایک خاموش‘ غلیظ اور بے جان پانی کا تالاب رہ گیا جسے آج دنیا ’’بحرِ مردار‘‘ (Dead Sea) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ناراضگی کی وہ مادی نشانی ہے جس کے بارے میں   سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے واضح حکم دیا تھا:
((لَا تَدْخُلُوا عَلٰى هٰؤُلاَءِ المُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ...))(صحیح البخاری: ۴۳۳)
’’ان عذاب دیے گئے لوگوں کے مقامات پر مت داخل ہو مگر یہ کہ تم رو رہے ہو۔‘‘ 
آپ ﷺ کا فرمان تھا کہ وہاں خوشیاں نہ مناؤ‘ بلکہ وہاں سے خوفِ خدا کے ساتھ روتے ہوئے اور جلدی سے گزر جاؤ۔
پرائڈ لینڈ۲۰۲۶ء:  عذاب کی مٹی پر ابلیسی سرکشی
آج اسی ملعون مٹی پر ‘ٹھیک اسی عذاب والی سرزمین پر‘یکم تاچار جون ۲۰۲۶ء کو    مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہم جنس پرستی کا فیسٹیول سجایاگیا‘ جسے ’’پرائڈ لینڈ‘‘ (Pride Land) کا نام دیا گیا ۔
وہ جگہ جہاں سے اللہ کے نبی ﷺ نے روتے ہوئے اور جلدی سے گزر جانے کا حکم دیا تھا‘ وہاں اس میلے کے لیے ہول ناک تیاریاں اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ۔ بحیرہ مردار کے مشہور ساحلی علاقے ’’عین بوکیک‘‘ (Ein Bokek) کے۱۵ بڑے اور عالی شان انٹرنیشنل  ہوٹلوں کو عام پبلک کے لیے مکمل طور پر بند کر کے اس چار روزہ ایونٹ کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ان نجی ساحلوں پر چوبیس گھنٹے چلنے والے پارٹی زونز‘ مہیب stages اور دجالی لائٹنگ کا جال بچھایا گیا تاکہ اسی پانی کے کنارے گناہ کا بازار گرم کیا جا سکے جہاں قومِ لوط غرق ہوئی تھی۔
اس فیسٹیول کو کسی نجی کلب کے بجائے اسرائیل کی وزارتِ سیاحت اور وزارتِ خارجہ کی براہِ راست سرکاری فنڈنگ اور پشت پناہی حاصل رہی۔ دنیا بھر سے آنے والے ہم جنس پرستوں  کو تل ابیب ایئرپورٹ سے براہِ راست یہاں لانے کے لیے ایک خصوصی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بنایا گیا ۔ چونکہ یہ پورا علاقہ غزہ اور لبنان کی حالیہ جنگ کی وجہ سے غیر محفوظ ہے‘ اس لیے اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے اس فیسٹیول کو اعلیٰ ترین فوجی سکیورٹی فراہم کی تاکہ بیرونی مہمانوں کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔
اس بین الاقوامی نیٹ ورک میں امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی اور فرانس کے سیاح بڑی تعداد میں شامل ہیں‘ جنہیں لانے کے لیے Mister B&B اور Outstanding tavel  جیسی عالمی کمپنیوں نے خصوصی پیکیجز بیچے ۔ اس پورے کھیل کا مرکزی چہرہ اسرائیلی پاپ کلچر کا مینیجر ہارون کوہن (Aaron Cohen) اور متنازع صہیونی آئیکنDana International ہیں‘ جنہیں اس نظریے کو پھیلانے کے لیے برانڈ ایمبیسیڈر بنایا گیا ۔
شیطنت اور تکبر کی انتہا دیکھیے کہ اس میلے کے منتظمین نے عرشِ بریں کو للکارتے ہوئے یہ نعرہ بلند کیا:’’Pride rises at the lowest place on Earth‘‘ یعنی 'زمین کے پست ترین مقام سے فخرکا ابھار!یہ لفظ 'ابھار‘ یا 'اوپر اٹھنا‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس عذاب کا کھلا مذاق اور توہین ہے جس نے اس گناہ گا ر قوم کو ذلیل کر کے زمین کے اندر دھنسا دیا تھا۔ جس جگہ کو اللہ نے سزا دے کر قیامت تک کے لیے عبرت کی نشانی بنایا‘ وہاں کھڑے ہو کر 'سر اٹھانے اور فخر کرنے کا دعویٰ درحقیقت کائنات کے مالک کو براہِ راست ایک کھلا چیلنج ہے! قومِ لوط کے عذاب والے دن سے آج تک‘ پوری انسانی تاریخ میں اللہ ربّ العزت کے خلاف اتنی باقاعدہ‘ بے خوف اور برہنہ بغاوت کی مثال نہیں ملتی۔
جیو پولیٹکل حقیقت: بلعم بن باعورا کا جدید مکر
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بحرِ مردار پر ہونے والا یہ میلا محض کچھ لوگوں کا ذاتی فعل ہے‘ تو آپ بہت بڑی بھول میں ہیں۔ سیاسی اصطلاح میں اس چالاک پالیسی کو ’’پنک واشنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جیو پولیٹکل ہتھیار ہے جس کے ذریعے غاصب اسرائیلی ریاست ایک طرف غزہ اور لبنان کے معصوم مسلمانوں پر بم برسا کر ان کا خون بہاتی ہے‘ اور دوسری طرف دنیا کے سامنے خود کو ’’روشن خیال‘‘ اور ’’انسانی حقوق کا محافظ‘‘ دکھانے کے لیے یہ جشن سجا کر اپنے جنگی جرائم پر پردہ ڈالتی ہے۔
یہ بالکل وہی قدیم شیطانی طریقہ کار ہے جسے تاریخ ’’بلعم بن باعورا کا مکر‘‘ کہتی ہے۔ یاد کیجیے تاریخ کے اس عبرت ناک واقعے کو جب بنی اسرائیل کا لشکر اسی بحرِ مردار کے قریبی خطے میں خیمہ زن تھا‘ تو اس وقت کے ایک گمراہ عالم بلعم بن باعورا نے‘ جس کا ایمان دنیاوی لالچ میں آ کر مٹی میں مل چکا تھا‘ دشمن بادشاہوں کو ایک ہول ناک مشورہ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا:
’’ان پر کوئی تلوار یا جادو اثر نہیں کرے گا کیونکہ جب تک یہ اخلاقی طور پر پاکیزہ ہیں‘ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اگر انہیں برباد کرنا ہے تو ان سے لڑو مت‘ بلکہ ان کا اخلاق تباہ  کر دو! اپنے شہر کی سب سے خوب صورت عورتوں کو ان کے خیموں میں بھیج دو اور انہیں بے حیائی پھیلانے کی کھلی چھوٹ دے دو۔ اگر اس لشکر کے چند مردوں نے بھی گناہ کا ارتکاب کر لیا‘ تو خدا کی مدد ان سے روٹھ جائے گی اور عذاب انہیں خود ہی مٹا دے گا۔‘‘
پھر تاریخ نے دیکھا کہ جیسے ہی ان کے قدم حیا کی حدوں کو پار کر گئے‘ اللہ کا غضب ٹوٹا اور ایک ہی دن میں چوبیس ہزارنوجوان طاعون کی وبا سے لاشوں میں تبدیل ہو گئے۔ آج دجالی طاقتیں اسی پرانی بلعمی حکمت ِعملی کو جدید دور میں نافذ کر رہی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو صرف بموں سے فتح نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک ان کے خاندانی نظام میں حیا زندہ ہے‘ ان کا ایمانی قلعہ ناقابلِ تسخیر ہے۔ اس لیے اب حملہ زمینی سرحدوں پر نہیں‘ بلکہ ہماری حیا پر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں+ LGBTQ ایجنڈے کا نفاذ
عالمی ادارے جیسے آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور یورپی یونین امداد اور قرضوں کی آڑ میں ترقی پذیر مسلم ممالک پر شیطانی شرائط مسلط کرتے ہیں۔+ GSP اسٹیٹس اور معاہدہ ساموا (Samoa Agreement) کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اگر معاشی بقا چاہیے تو ملک میں مغربی طرز کی آزادی‘ مرد اور عورت کے قدرتی نظام کی تباہی اور بین الاقوامی +LGBTQ ایجنڈے کو قانونی تحفظ دو۔
اسی معاشی بلیک میلنگ کا نتیجہ تھا کہ۲۰۱۸ء میں خاموشی سے ’’ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ‘‘ پاس کروایا گیا‘ جس نے ’’خود ساختہ صنفی شناخت‘‘ کی آڑ میں ہم جنس پرستی کے لیے ایک قانونی چور دروازہ کھول دیا۔اس قانون کے نفاذ کے بعد NADRA کے سرکاری ریکارڈ میں جو ہولناک حقائق سامنے آئے‘ وہ یہ ہیں:
مرد سے عورت۱۶,۵۳۰:سے زائد پیدائشی مَردوں نے خود کو سرکاری کاغذات میںعورت رجسٹر کروا لیا۔
عورت سے مرد: تقریباً۱۲,۱۵۰ پیدائشی خواتین نے اپنے کوائف تبدیل کروا کر خود کومرد درج کروا لیا۔
مجموعی طور پر تقریباًتیس ہزار افراد نے اس قانون کا سہارا لے کر اپنی صنف تبدیل کرنے کی درخواستیں دیں‘ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قانون پاکستان میں ہم جنس پرستی اور مغربی ایجنڈے کو پھیلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ غیر ملکی این جی اوز کی اربوں ڈالرز کی فنڈنگ کے   بل بوتے پر لبرل لابی اور داخلی حلقے اب بھی پسِ پردہ سرگرم ہیں تاکہ کسی نہ کسی صورت اس نظریے کو یہاں تحفظ دلایا جا سکے اور پاکستان کے خاندانی نظام کو تباہ کیا جا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ زہر اب قانون کی دیواروں کو پھلانگ کر انٹرنیٹ‘ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز کے ذریعے سیدھا ہمارے بیڈ روم تک پہنچ چکا ہے۔ شیطان کا وہ بلعمی مکر آج  ڈیجیٹل الگورتھم (Digital Algorithms) کا روپ دھار کر ہمارے بچوں کے ذہن پر وار کر رہا ہے۔ جب بچوں کے کارٹونز‘ نیٹ فلکس کی سیریز اور موبائل گیمز میں حیا کو مٹا کر ان   غیر فطری افعال کو ’’محبت اور آزادی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے‘ تو وہ ہماری نئی نسل کو ذہنی غلام بنانے کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام اور ہماری ذمہ داری
ہمیں یہ بات گہرائی میں جا کر سمجھنی ہوگی کہ ہماری اصل طاقت کیا ہے! اللہ تعالیٰ نے ہمیں ’’خیر اُمت‘‘ بنا کر زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے۔ ہمارا کام مٹی کی شہوتوں میں غرق ہونا نہیں‘ بلکہ دنیا میں حیا اور عدل کا نظام قائم کرنا ہے۔ ہماری اصل طاقت ’’لا الٰہ اِلا اللہ‘‘ کی روح ہے‘ جس کا مطلب ہر دجالی نظام اور بے حیائی کے سیلاب کو ٹھکرانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمانِ گرامی یاد رکھیے جو ہمارے ایمان کی بنیاد ہے:
((مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ)) (صحیح مسلم: ۴۹)
’’تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے‘ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے‘ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (برا جانے)‘ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘۔ 
یہ معاملہ محض ایک کہانی یا وقتی بحث کا نہیں‘ بلکہ یہ ہمارے ایمان‘ ہماری حیا اور ہمارے خاندانی نظام پر ایک بہت بڑا حملہ ہے۔ ہم پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس فتنے کو اپنے دوستوں‘ رشتہ داروں اور خاندانی نشستوں میں زیر بحث لائیں تاکہ عام لوگ بھی اس پوشیدہ خطرے سے واقف ہو سکیں۔ اپنے بچوں کے پاس بیٹھیں اور انہیں میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی کے خطرات سے بچائیں۔ یاد رکھیے‘ اگر آج ہم نے غفلت کی وجہ سے خاموشی اختیار کی‘ تو ہماری اگلی نسلیں اخلاقی طور پر تباہ ہو جائیں گی اور ہمیں اس کا حساب اللہ کے ہاں دینا پڑے گا۔ فیصلے کا وقت آ چکا ہے؛ اپنے ایمان‘ اپنی نسلوں اور اپنے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے آگے بڑھیے۔
حوالہ جات 
(۱) القرآن الحکیم۔ سورہ ہود(۱۱): آیت ۸۲
(۲) القرآن الحکیم۔ سورۃ الاعراف (۷): آیت۱۷۵،۱۷۶
(۳) صحیح البخاری‘ کتاب الانبیاء (مقاماتِ عذاب سے روتے ہوئے گزرنے کا بیان)
(۴) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان(برائی کو ہاتھ‘ زبان اور دل سے روکنے کا بیان)
(۵) The Jerusalem Post. (2026). "Four Day Pride Festival to be held at Dead Sea, largest in history of Middle East."
(۶) Baptist News Global. (2026). "Israel promotes biggest LGBTQ+ festival ever in the Middle East, near site of Sodom: Mocking God."
(۷) Reddit / Geopolitical Analysis. (2026). "The Emergence of Pride Land 2026 and Pinkwashing Row amidst Gaza War."