فلسطین کی حالت ِزار
علیزہ مکنون
ایک جہاز نے آسمان پر اُڑان بھرتے ہوئے جب کچھ سفید و سیاہ تصاویر نشر کیں‘ تو وہ منظر رنگ برنگی دُنیا کے باقی حصوں سے بالکل مختلف نظر آیا۔ گویا وہ کسی قدیم تہذیب کے کھنڈرات یا باقیات ہوں جسے کسی ظالم قوم نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہو۔ اُس منظر میں ایسے ویران راستے اور خاموش گلیاں نظر آئیں جو کسی منزل تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔ منہدم دیواریں انسانی خون کے قطروں سے رنگین تھیں۔ عمارتوں کے ملبے کاایک ایسا ڈھیر جوکبھی کسی کے لیے یقیناً پُر سکون جائے پناہ ہوا کرتا تھا!
اِس سفید و سیاہ منظر کی حدود کے اندر قدم رکھنے سے معلوم ہواکہ یہ ایک بڑے رقبے پر موجود کسی قدیم تہذیب کی باقیات نہیں بلکہ ( محض۴۱ کلومیٹر لمبی اور ۶ سے ۱۲ کلومیٹر چوڑی) جدید دور کی غزہ پٹی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے ’’دُنیا کی سب سے بڑی جیل‘‘کہا جا سکتا ہے‘ جس کی تمام اطراف سے ناکا بندی کردی گئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ غزہ کی داستان دُنیا سے اوجھل تھی اور پلک جھپکنے میں خاموشی سے اُس کا یہ حشر کردیا گیا۔ یہ سب دُنیا کے سامنے اِس طرح عیاں تھا جیسے کسی سنیما گھر میں بڑی سکرین پر کوئی فلم چل رہی ہو! یہ سب کچھ اُس وقت ہوا جب امن و سلامتی اور کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے ضامن ’’ عالمی قوانین‘‘ موجود تھے ‘ اور انہیں نافذ کرنے کی ذمہ دار تنظیم’’اقوامِ متحدہ‘‘بھی قائم تھی۔ دنیا کے ممالک’’آزادی‘‘ ‘ ’’انسانی حقوق‘‘ ‘ ’’حقوقِ نسواں‘‘ اور اِس سے ملتی جلتی سرخیوں کی نعرے بازی کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے!
غزہ کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھ کر عقل تو یہی کہتی ہے کہ ایسے نام نہاد نعرے اوربرائے نام تنظیمیں محض آنکھ میں دھول جھونکنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ شاید یہی اِس ساری تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ وجہ چاہے جو بھی ہو‘ مگر نظر یہی آتا ہے کہ اِن بے منزل سڑکوں‘ عمارتوں کے ملبوں‘ بارود آلود آسمان اور منہدم دیواروں کے سائے میں اب بھی غالباً بیس لاکھ افراد کی سانسیں موجود ہیں جو بغیر کسی بنیادی ضرورت کے اِدھر سے اُدھر بیگانوں کی طرح اپنے ہاتھوں میں زندگی کا خالی کشکول لیے دوڑ رہے ہیں!
فلسطین کے باشندوں کا جرم
اسرائیل فلسطینیوں بالخصوص اہل غزہ کو مجرم دکھانے کے لیے يوں تو کئی حیلے بہانے تلاش کرتا ہے مگر درحقیقت ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے گھر بار سے دست بردار ہوکر اپنی سر زمین کے اختیارات صہیونیوں کے حوالے کیوں نہیں کرتے۔ اسرائیل چونکہ واضح طور پر یہ کہہ نہیں سکتا تو نہایت عقل مندی اور سلیقے سے’’دفاع‘‘کا لفظ استعمال کرکے معصوموں کا خون چوستا ہے۔
۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہونے والی ظلم کی یہ داستان اسی حربے کی ایک مثال ہے۔ دو سال سے زیادہ جاری اس بدترین نسل کشی میں اسرائیل تمام اخلاقی اور قانونی حدود پار کر چکا ہے ۔ اب ہر سلیم الفطرت انسان دیکھ سکتا ہے کہ غزہ ایسی تمام تنظیموں کا اجتماعی قبرستان بن چکا ہے جن کا قیام بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور انسانی حقوق‘ تعلیم‘ آزادی‘ جمہوریت کا فروغ تھا۔ ۷ اکتوبر تو محض ایک بہانہ تھا‘ در حقیقت اِس کی شروعات توفلسطین میں یہودیوں کے ایک ’’قومی گھر‘‘بنانے کے نظریے سے ہوئی تھی۔ یہ نظریہ ایک تحریک سے شروع ہوا جسے ’’صہیونیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس کا بانی تھیوڈور ہرزل نامی ایک یہودی تھا جس نے ۱۸۹۶ء میں (The Jewish State) Der Judenstaat کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں تمام یہودیوں کو فلسطین واپس جاکراپنی علیحدہ مملکت بنانے کی تجویز دی گئی۔
اِس سارے نظریے کو بین الاقوامی طور پر تب دیکھا گیا جب اِس کی ابتدائی حمایت برطانیہ نے کی۔ بعد میں برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے ۱۹۱۷ء میں یہودی برادری سے معاہدہ کر کے ایک اعلامیہ جاری کیا جو Balfour Declarationکے نام سے مشہور ہوا۔ یہ اعلامیہ سلسلہ وار اپنی منزلیں طے کرتا ہوا بالآخر۱۹۴۸ء میں اختتام کو پہنچا۔ محض ۶۷ الفاظ پر مشتمل یہی وہ اعلامیہ تھا جس نے فلسطینیوں کی زندگی کا دھارا ہی بدل دیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے تنازع کو جنم دیا جو تاحال جاری ہے۔ یہ ایک ایسا غیرمنصفانہ اعلامیہ تھا جس میں ایک قوم( برطانیہ) نے دوسری قوم( فلسطینیوں )کے ملک کا وعدہ تیسری قوم (یہودیوں )سے کیا۔
سیاسی سودے بازیاں اور ذاتی مفادات
اسرائیل کے قیام کے پس پردہ حقائق کو چند جملوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اِس میں واقعات کا ایک پورا سلسلہ شامل ہے جس کی ہر کڑی دوسری کڑی سے جڑی ہوئی ہے۔فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی راہیں نہایت چالاکی اور باریکی سے ہموار کی گئیں۔ جس کسی کے لیے جتنا ممکن ہوا‘ اس نے اپنا مفاد عزیز رکھا۔ برطانیہ نے بھی اسی نیت سے اِس نظریے کی حمایت کی۔ صاف لفظوں میں تو یہ سب سیاسی سودے بازیاں تھیں۔ کہیں برطانیہ کو صہیونیوں کی مدد درکار تھی اور کہیں صہیونیوں کو برطانیہ کی۔ اسرائیل کے قیام کا ایک حوالہ جنگ عظیم اوّل سے بھی متعلق ہے‘
جس کے دوران سلطنت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ اگرچہ یہ سلطنت زوال کی آخری حدیں چھو رہی تھی مگر پھر بھی وہ مسلمانوں کے لیے ایک ڈھال کی مانند تھی جس کو توڑے بغیر اغیار کے لیے فلسطین تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ پس اپنوں کی غداری اور دشمنوں کی مکاری نے مل کر اس سلطنت کا تختہ اُلٹ دیا اور اُمت کو ایک ایسے زخم سے دوچار کیا جو آج تک مندمل نہیں ہو سکا۔
جنگ عظیم دوم کے واقعات کا بھی یہودیوں کو قومی گھر مہیا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ اس کی نمایاں مثال جرمن نازی پارٹی کی طرف سے یہودیوں کا قتل عام ہے‘ جسے ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔تاہم اس سے یہودیوں کو ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دُنیا میں انہیں مظلومیت کا لیبل مل گیا۔ پھر اسی مظلومیت کی آڑ میں پہلے دُنیا کے مختلف ممالک سے فلسطین کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہوا اور بالآخر فلسطین میں اپنے پنجے مکمل طور پر گاڑ لیے گئے۔
فلسطین کے باشندوں پر ظلم
بظاہر ۱۹۴۸ء میں یہود کا مقصد اپنی تکمیل کو پہنچا‘لیکن درحقیقت یہاں سے ان کے ظلم کی ایک نئی داستان شروع ہوئی۔۱۹۴۸ء سے۱۹۴۹ءکا دورانیہ وہ ہے جب یہودی اور عرب مسلح گروپوں کے درمیان لڑائی جاری رہی۔ ۱۹۴۹ء میں جنگ بندی تو ہوگئی‘ مگر اِس کا سارا فائدہ اسرائیل کے حق میں گیا‘ کیونکہ اس نے ۵۳۰ دیہات اور شہروں کو تباہ کرکے ۷۸ فیصد سے زیادہ فلسطینی زمین پر اپنا قبضہ جما لیا۔ نتیجتاً سات لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ تعداد میں فلسطینی بےگھر ہوئے جبکہ پندرہ ہزار سے زائد شہید ہوگئے۔ اِس سارے واقعے کو آج تک فلسطینی ’’النکبہ‘‘ (تباہی) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا۔ ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی‘ جو چھ دن جاری رہی۔ اس میں مصر‘ اردن‘ عراق اور شام شامل تھے۔ باقی عرب اسرائیلی جنگوں کی طرح اِس کا اختتام بھی اسرائیل کی فتح پر ہوا۔ اسرائیل نے مصری اور عرب افواج کو بدترین شکست سے دوچار کرکے مشرقی بیت المقدس اور غربِ اردن (دریائے اردن کامغربی کنارہ) کے ساتھ شام کی گولان کی پہاڑیوں‘ غزہ اور مصری جزیرہ نما سینائی پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس جنگ نے سارے مشرقِ وسطیٰ کو بری طرح متاثر کیا مگر سب سے زیادہ نقصان فلسطینیوں ہی کو اُٹھانا پڑا کیونکہ اب وہ سرزمین اُن کے ہاتھوں سے مکمل طور پر نکل گئی جس کا کچھ حصہ پہلے ان کے قبضے میں تھا۔
دشمن کے ساتھ امن کے سمجھوتے
اب فلسطین کے باشندے اپنی مٹھی بھر زمین میں غیروں کی طرح رہنے لگے۔ کئی لوگ مہاجر بن کر قریبی ممالک میں جانے پر مجبور ہوگئے جبکہ کئی پناہ گزین خیموں میں چلے گئے۔ اسی طرح غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بھی مہاجروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ مغربی کنارے میں صہیونیوں نے باقاعدہ اپنی بستیاں تعمیر کرنا شروع کردیں ۔۱۹۶۷ء میں عربوں کو ہونے والی بدترین شکست کے بعد فلسطینیوں کو اب اُن سے بھی زیادہ توقع نہیں رہی۔
يہ فطری بات ہے کہ جب انسان مسلسل ظلم برداشت کرتارہتا ہے تو بالآخر ردّ ِعمل کے طور پر کوئی قدم اٹھاتا ہے۔اسی احساس کے تحت اب فلسطین کے اندر ہی آزادی کے حصول کے لیے مزاحمت کی مختلف تنظیمیں جنم لینے لگیں ۔’’تنظیم آزادی فلسطین‘ ‘ (پی ایل او)اگرچہ۱۹۶۴ء ہی میں تشکیل پا چکی تھی مگر اب وہ زیادہ متحرک ہونے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور اِس کے مابین کافی کشیدگی جاری رہی۔آخر کار اِس تنظیم نے ہتھیار ڈال کر’’دو ریاستی حل‘‘ اور’ ’امن‘‘ کے مدّنظر اسرائیل سے معاہدہ یا دوسرے الفاظ میں سمجھوتا کر لیا۔ اسے ’’اوسلو معاہدوں‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اوسلوناروے کا دارالحکومت ہے جہاں فلسطینی اور اسرائیلی قیادتوں کے مابین خفیہ مذاکرات طے پائے۔اس سلسلے کاپہلامعاہدہ ۱۹۹۳ء میں واشنگٹن میں ہوا جبکہ دوسرا معاہدہ ۱۹۹۵ء میں مصر میں طے پایا۔اس کا بنیادی مقصد غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضے کو روکنا اور اگلے پانچ سالہ عرصے میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ایک عبوری حکومت قائم کرنا تھا۔
بدقسمتی سے عرب کی ایک مخصوص قیادت نے (سارے عرب اس میں شامل نہیں تھے) اسرائیل کو ایک جائز ملک تسلیم کر لیااور فلسطینی اراضی کے ۷۷ فیصد حصے پر بھی اسرائیلی تسلط جائز تسلیم کرلیا۔ یہ بھی طے پایا کہ تحریکِ انتقاضہ اب کالعدم ہوچکی ہے اور اسرائیل کے خلاف مسلح کارروائی اب غیر قانونی سمجھی جائے گی۔ یوں عرب قیادت فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے مطالبے سے دست بردار ہوگئی۔ اس معاہدے کو پورےعالم اسلام خصوصاً عرب ممالک میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اوسلو معاہدے میں فلسطین کے بنیادی ایشوز کو ڈسکس ہی نہیں کیا گیا تھا؛ مثلاً: القدس شہر کا مستقبل کیا ہوگا؟ فلسطینی مہاجرین کا مستقبل کیا ہوگا ؟ مغربی پٹی اور غزہ کے علاقے میں غاصب صہیونی بستیوں کا کیا ہوگا؟اس بھیانک معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی حکومت کی نگرانی میں کام کرے گی۔ فلسطینی اتھارٹی اپنی علیحدہ فوج نہیں رکھ سکتی۔ اسرائیل‘ فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرسکتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی اجازت کے بغیر اسلحے کی خریدو فروخت نہیں کرسکتی۔ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کاروں کو گرفتار کرکے انہیں اسرائیلی حکومت کے سپرد کرنا بھی اوسلو معاہدے میں شامل تھا۔ اسی کے ساتھ اوسلو معاہدے میں یہ بھی ظلم کیا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی کا سرحدات پر اختیار بالکل ختم کردیا گیا اور فلسطینی اپنی سرزمین میں آنے اور جانے کے لیے اسرائیل کی اجازت کے پابند ہوگئے۔ ایک اور خطرناک چیز اس معاہدے میں یہ ہوئی کہ اب آزادانہ طور پر کوئی بھی عرب ملک اسرائیل کی حیثیت کو تسلیم کرسکتا تھا ۔
دوسرا انتفاضہ
دوسرا انتفاضہ۲۸ ستمبر ۲۰۰۰ ء کو اس وقت شروع ہوا جب لیکود کے اپوزیشن لیڈر ایریل شیرون نے یروشلم کے پرانے شہر اور اس کے ارد گرد ہزاروں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے احاطے کا ایک اشتعال انگیز دورہ کیا۔ دو روز کے دوران فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں میں پانچ فلسطینی ہلاک اور۲۰۰ زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے بڑے پیمانے پر مسلح بغاوت کو جنم دیا۔ تحریک کے دوران اسرائیل نے فلسطینی معیشت اور انفراسٹرکچر کو بہت نقصان پہنچایا۔ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور علیحدگی کی دیوار کی تعمیر شروع کر دی جس نے بڑے پیمانے پر بستیوں کی تعمیر کے ساتھ فلسطینیوں کے معاش اور معاشروں کو تباہ کر دیا۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسی آبادکاری غیر قانونی ہے‘ لیکن گزشتہ برسوں کے دوران لاکھوں یہودی آبادکار چوری شدہ فلسطینی زمین پر بنائی گئی کالونیوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔ جس وقت اوسلو معاہدوں پر دستخط ہوئے‘ صرف ۱۱۰,۰۰۰یہودی آبادکار مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں مقیم تھے۔ آج یہ تعداد ۷۰۰,۰۰۰ سے زیادہ ہے جو فلسطینیوں سے چھینی گئی ۳۹۰ مربع میل سے زیادہ اراضی پر قابض ہیں۔
غزہ کی آزادی اور ناکابندی
پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات کا۲۰۰۴ ء میں انتقال ہوا‘ جس کے ایک سال بعد دوسرا انتقاضہ ختم ہوا۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں کو ختم کر دیا گیا‘ جبکہ اسرائیلی فوجی اور ۹۰۰۰ آباد کار غزہ سے نکل گئے۔ ایک سال بعد‘ فلسطینیوں نے پہلی بار عام انتخابات میں ووٹ ڈالے۔ حماس نے اکثریت حاصل کر لی۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کی مرکزی جماعت الفتح اور حماس کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی‘ جو مہینوں تک جاری رہی۔ اس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی مارےگئے۔ حماس نے الفتح کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کر دیا‘ اور الفتح نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا۔ جون ۲۰۰۷ء میں اسرائیل نے حماس پر ’’دہشت گردی‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے غزہ کی پٹی پر زمینی‘ فضائی اور بحری ناکابندی کر دی۔
مصر سے متصل غزہ کی پٹی پر حملے
اسرائیل نے غزہ پر چار طویل فوجی حملے کیے ہیں :۲۰۰۸ء،۲۰۱۲ء،۲۰۱۴ء اور ۲۰۲۱ء میں۔ ہزاروں فلسطینی مارے جا چکے ہیں‘ جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔ دسیوں ہزار گھر‘ سکول اور دفتری عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ تعمیر نو تقریباً ناممکن ہے کیونکہ محاصرہ تعمیراتی سامان جیسے سٹیل اور سیمنٹ وغیرہ کو غزہ پہنچنے سے روکتا ہے۔۲۰۰۸ء کے حملے میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ فاسفورس گیس جیسے ہتھیاروں کا استعمال شامل تھا۔۲۰۱۴ء میں۵۰ دن کے دوران اسرائیل نے ۲۱۰۰ سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا جن میں۱۴۶۲ شہری اور ۵۰۰ کے قریب بچے شامل تھے۔ ’’آپریشن پروٹیکٹو ایج ‘‘کے نام سے کیے جانے والے اس حملے کے دوران تقریباً ۱۱,۰۰۰ فلسطینی زخمی ہوئے‘۲۰,۰۰۰ گھر تباہ اور۵ لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔
دنیا کا واحد ملک اسرائیل ہے‘ جس نے اپنی سرحدوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں یا نقشوں کے مطابق تسلیم نہیں کیا‘ بلکہ اس کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی حدود کی تکمیل تب ہو گی جب اردن‘ شام‘ عراق‘ ایران‘ آدھا سعودی عرب اور ترکی ومصر کے کئی علاقے ریاست اسرائیل کے قبضے میں آئیں گے۔فلسطین کی موجودہ صورت حال انتہائی تشویشناک اور بحرانی ہے۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں کے باعث تباہی اور انسانی بحران اپنے عروج پر ہے۔ جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینی خوراک‘ پینے کے صاف پانی‘ پناہ اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
فلسطین کے تازہ ترین زمینی حالات اور عالمی سفارتی کوششوں کا جائزہ درج ذیل ہے:
غزہ میں انسانی بحران: خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات کے سبب قحط جیسی صورت حال برقرار ہے۔ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں اور طبی امداد کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔
•مغربی کنارہ: مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل چھاپوں‘ گرفتاریوں اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے اقدامات جاری ہیں۔
•عالمی سطح پر کوششیں: اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں‘ تاہم اب تک دیرپا امن کے لیے کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔