دین ِاسلام اور اس کے تقاضے
ڈاکٹر محمد طاہر خاکوانی
(تنظیم اسلامی کے سالانہ اجتماع۲۰۲۴ء کے موقع پر خطاب)
ہمارے تنظیمی فکر کے دو اہم مضامین ہیں:’’دین اسلام کا جامع تصوّر‘‘اور ’’دینی فرائض کا جامع تصوّر۔‘‘ان دونوں کو جمع کر کے یہ ایک موضوع بنایا گیا ہے۔ دین ِاسلام کے حوالے سے میں دس نکات آپ کے سامنے رکھوں گا ۔
(۱) دین کا جامع مفہوم وہ نظام ہےجس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہو‘اللہ تعالیٰ کو سپریم اتھارٹی حاصل ہو۔وہ نظامِ زندگی کے تمام معاملات‘خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی‘ میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے قوانین مرتّب کرے‘ ان قوانین پر عمل درآمد یعنی اطاعت کا حکم دے اور اسی کی روشنی میں جزا اور سزا کا تعین کرے ۔یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات پر عمل کرو گے تو اچھا بدلہ ملے گا‘ عمل نہیں کرو گے تو سزا ملے گی۔ یہ دین کا ایک جامع تصوّر ہے۔
(۲) اسلام کا مطلب ہے:سر ِتسلیم خم کر دینا‘ اپنی گردن جھکا دینا (to surrender) ‘ مزاحمت(resistance) کو ختم کر دینا۔ گویا اللہ کی حاکمیت کے سامنے سر ِتسلیم خم کر دو!
(۳) دین ِاسلام کے چھ گوشےہیں:تین انفرادی اور تین اجتماعی ۔ انفرادی احکام میں پہلا گوشہ عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ‘انبیاء کرام ‘ وحی ‘ آسمانی کتب اورفرشتوں پر ایمان رکھنا۔ اسی طرح اچھی اور بری تقدیر کے حوالے سے عقیدہ رکھنا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ دوسرا گوشہ عبادات کا ہے یعنی نماز ‘روزہ ‘حج ‘ زکوٰۃ کی پابندی ۔تیسرا گوشہ رسومات (social customs) سے متعلق ہے۔ انسان کی پیدائش پر کچھ رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ شادی کے بندھن کے حوالے سے نکاح اور ولیمہ ہے۔ کوئی فوت ہو جاتا ہے تواس کی تجہیز و تکفین ہے‘ نمازِ جنازہ ہے ‘دعا ہے۔ یہ انفرادی احکام ہیں ۔ اجتماعی احکام کا سب سے اہم (important) حصہ ‘یعنی تقریباً ۷۵ فیصد اسلام کے سیاسی‘ معاشی اورمعاشرتی نظام سے بحث کرتا ہے ۔
(۴) آج کے دور کے بڑے بڑے فتنوں میں سے سیکولرازم سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہ اصل میں اللہ کی بغاوت پر مبنی ایک نظام ہے اور اس کی سب سے زیادہ ضر ب دین اسلام پر پڑتی ہے۔ سیکولرازم اجتماعی معاملات یعنی ہمارے دین کے۷۵فیصد حصّہ کو دین کا حصہ مانتا ہی نہیں۔ اس کو مذہب سے خارج قرار دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی اکثریت اس ضمن میں جو چاہے گی فیصلہ کر کے قانون بنا لے گی۔ عوامی حاکمیت کی بنیاد پر جو نظام انہوں نے قائم کیا ہے‘ اس کا نام جمہوریت(democracy) ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ہم کسی آسمانی ہدایت کو نہیں مانتے ‘ کسی آسمانی قانون کو تسلیم نہیں کرتے ‘ بلکہ ہم خود حاکم ہیں ۔ہم چاہیں تو اپنا معاشی نظام سود اور جوئے کی بنیاد پر بنائیں۔چاہیں تو معاشرتی نظام کے ضمن میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیں‘ قحبہ گری کے لائسنس دیں اور شراب کے ٹھیکےدیں۔ہم کسی حلال و حرام کی تقسیم کو نہیں مانتے ‘ کیونکہ یہ اجتماعی معاملات عوام کے منتخب نمائندوں پر منحصر ہیں۔ گویا سیکولرازم اللہ کی حاکمیت کے بجائے عوامی حاکمیت پر مبنی نظام ہے ۔
(۵) محدود تصوّرِ دین اپنانا۔ اس سے مراد ہے کہ دین کے صرف انفرادی تین گوشوں پر عمل کرنا۔ آج ہمارے ہاں اکثر و بیشتر یہی نظر آتا ہے کہ عقیدہ پختہ ہو‘ عبادات کا نظام ہو‘ جس میں پھر بہت زیادہ تفصیلات (details) بھی ہیں۔ اسی طرح خوشی اور غمی کی رسومات ہیں۔ ان سب کے حوالے سے علمائے کرام سے سوالات بھی کیے جاتے ہیں اورسمجھا یہ جاتا ہے کہ اصل دین ِاسلام بس یہی ہے۔ انفرادی طور پر ایک اچھا مسلمان بن کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے اللہ کی عبادت کا پورا حق ادا کردیا ۔جب کہ ہم نے اجتماعی معاملات میں احکامِ الٰہی کو پس ِپشت ڈال رکھا ہےاور جن معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں تمہارے معاشرے میں نہیں ہونی چاہئیں ‘ ان کو اپنایا ہوا ہے‘ مثلاً سود ‘جوا ‘شراب نوشی ‘رشوت ‘کرپشن ‘ فحاشی ‘بے حیائی اور بے شرمی ۔ اسی طرح دولت کی تقسیم کا نظام بھی غلط بنیادوں پر قائم ہے۔ وراثت کی تقسیم کا نظام غیر منصفانہ ہے۔ پھر تعزیرات یعنی اللہ کے قانون کے مطابق سزا نہ دینے کا معاملہ ہے۔جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا ‘زانی کو کوڑے لگانا یاسنگسار کرنا۔ پھر یہ کہ اگر ایک اسلامی ریاست کے خلاف کچھ لوگ اُٹھ کھڑے ہوں تو اس بغاوت کو ختم (dismantle) کرنے کے لیے ان کے ساتھ کیسا برتائو کرنا ہے۔ان سارے معاملات پر ہماری توجہ نہیں ہے۔ دین کے بارے میں بس یہ بات سمجھ لی گئی ہے کہ یہ صرف انفرادی معاملات تک ہی محدود ہے۔ اگر انسان ایسا رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی وعید ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:
{اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط}(البقرۃ:۸۵)
’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں‘اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔‘‘
اقبال نے بھی کہا تھا:؎
ہوئی دِین و دولت میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری‘ ہوس کی وزیری!اورـ:؎
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!(۶) دین واقعتاً دین اُس وقت بنتا ہے جب وہ غالب ہو ۔اگر وہ مغلوب ہے تو مذہب ہے‘ دین نہیں ۔ دین غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ ارشاد ِخدا وندی ہے:
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَــوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ(۹)}(الصف)
”وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول(ﷺ) کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو!‘‘
’’اَلْحَقُّ يَعْلُوْ وَلَا يُعْلٰى عَلَيْہِ‘‘کائنات کی بہت بڑی صداقت ہے۔ یعنی حق تو غالب ہونے کے لیے آیا ہے‘مغلوب ہونے کے لیے نہیں ۔ہمارے ہاں انگریز کے دور حکومت میں سیاسی ‘معاشی ‘معاشرتی سارے نظام انہی کے تھے‘ البتہ مسلمانوں ‘ہندو ؤں‘سکھوں‘ پارسی‘ عیسائیوں کو صرف مذہبی آزادی تھی کہ تم جس طرح چاہو اپنی پوجا پاٹ کرلو۔اپنی عبادات اور رسومات پر عمل کرو‘ ہم کچھ رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ اس صورت حال پر ایک عالم دین نے کہا تھا کہ انگریز بہت اچھا حکمران ہے جس نے ہمیں مذہبی آزادی دی ہوئی ہےاور نماز‘ روزوں پر کوئی پابندی نہیں ۔ تبھی تو اقبال نے یہ پھبتی چست کی تھی کہ:؎
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!اسلام درحقیقت اُس وقت آزاد ہوگاجب اس کا سیاسی ‘ معاشی اور معاشرتی نظام قائم ہوگا۔
(۷) دین اسلام بالکل مکمل ہے‘ اس میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں ۔ اگر کسی بھی پہلو سے کوئی معمولی سا اضافہ بھی کیا گیا تو یہ بدعت کا دروازہ کھولنے والی بات ہے۔ نمازکی ہر رکعت میں دو سجدے ہوتے ہیں۔ اگر انسان یہ سمجھے کہ اللہ ربّ العز ّت کو سجدہ کرنا تو اچھی بات ہے‘ قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے‘ میں تیسرا سجدہ بھی کروں گا تواس بات کی اجازت نہیں۔ پس اسلام ایک مکمل دین ہےجبکہ دوسرے مذاہب میں بہت اضافے کیے گئے ہیں۔ اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے:
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ۭ}(المائدۃ:۳)
’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیاہے اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا اور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت ِدین ۔ ‘‘
(۸) دوسرے ادیان ناقابلِ قبول ہیں چونکہ وہ تحریف شدہ ہیں۔ سینٹ پال نامی شخص جو یہودی تھا ‘اس نے عیسائیت کا لبادہ اوڑھ کر اس مذہب ہی کا بیڑا غرق کردیا۔عقیدۂ تثلیث ایجاد کیا ۔کفّارہ کا ایک جھوٹا عقیدہ گھڑ لیا۔آج کی عیسائیت در اصل پال ازم ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان کا دین نامکمل بھی ہے۔ وہ محض انفرادی عقائد ‘ عبادات اور کچھ اخلاقی قوانین پر مشتمل ہے جبکہ اجتماعی معاملات عیسائیت کےاندر سرے سے موجود ہی نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَمَنْ یَّــبْـتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّــقْبَـلَ مِنْہُ ج وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۸۵)}(آل عمران)
’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو وہ اس کی جانب سے قبول نہیں کیا جائے گا۔اور پھر آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو کر رہے گا۔‘‘
(۹) دین اور بیعت میں بڑی مطابقت ہے۔ نبی اکرم ﷺدین اسلام کو نافذ کرنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے۔ دین ایک بامعنی نظام ہے اور اس کے قیام کی جدّوجُہد کے لیے جو جماعت بنائی گئی اس کا سارا نظام بیعت پر ہے۔اسلام اور بیعت دونوں کا تقاضا ہے سر ِتسلیم خم کرنا‘ سمع و طاعت کرنا۔ نبی اکرمﷺ کی انقلابی جدّوجُہد ایک باطل اور طاغوتی نظام کے خلاف تھی‘اس لیے ضروری تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت بنائیں جو سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو۔ اس میں سمع و طاعت ‘ نظم وضبط اور باہمی اخوت ہو۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بیعت کا نظام اختیار کیا جو منصوص بھی ہے اور اب ہمارے لیے مسنون اور ماثور بھی۔ اس کشمکش میں کوئی جمہوری نظام نافع نہیں ہو سکتا تھا۔ شورائیت اجتماعیت کی روح ہے‘البتہ حتمی فیصلہ عددی تعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ امیر کی صواب دید پر ہوگا۔
(۱۰) اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ دین اسلام کا تقاضا کیا ہے ‘ اس کے فرائض کیا ہیں تو پھر اصل اہمیت اس امر کی ہوتی ہے کہ باطنی طور پر تحریک (inner motivation) کیسے حاصل ہو۔ دراصل سب کچھ جاننے کے باوجود ہمارے اندرسستی چھائی رہتی ہے اور انسان محنت کرنے سے کتراتا ہے۔ جیسے غالب نے بھی کہا تھاکہ :؎
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی!لہٰذا طبیعت کو سمع و طاعت پر ابھارنے کے لیے اندر سے ایک تحریک کی ضرورت ہے اور یہ حاصل ہوتی ہے ایمان سے۔ محض قانونی ایمان نہیں ‘بلکہ یہاں حقیقی ایمان ‘شعوری ایمان‘ بصیرت والا ایمان ‘یقین قلبی والا ایمان درکار ہے۔عمل اس کے تابع ہوگا۔ ایمان جتنا گہرا ہوگا‘ عمل اتنا ہی بہتر ہوتا چلا جائے گا۔کسی کے دل کے اندر ایمان کتنا گہرا ہے‘ اس کو ناپا نہیں جا سکتا ۔؎
دِل دریا سمندروں ڈُونگے
کون دِلاں دِیاں جانے ہُوایمان کی بنیاد پر دل کے اندر سے تحریک اُٹھےگی اور قلبی یقین والا یہ ایمان ہمیں قرآن سے ملے گا۔ازروئے الفاظِ قرآنی:
{وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ(۲)}(الانفال)
’’ اورجب انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
علامہ اقبال اسی بات کو یوںبیان کرتے ہیں:؎
چوں بجاں دَر رَفت جاں دیگر شوَد
جاں چو دیگر شُد جہاں دیگر شوَد’’یہ قرآن جب کسی کے دل کے اندر داخل ہوجاتا ہے تواندر کی دنیا کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اور جب اند رکی دنیا بدل جاتی ہے تو باہر کی پوری دنیا بدل جاتی ہے۔‘‘
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان دس نکات کے تقاضے کیا ہیں۔
عبادتِ ربّ
سب سے پہلا تقاضا ہے :بندگی ٔ رب‘ عبادتِ ربّ ۔تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی نکتہ یہی تھا۔ ہر نبی نے اپنی قوم سے یہی کہا :
{ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَـکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط}(الاعراف:۶۵)
’’اے میری قوم !اللہ کی بندگی اختیار کر‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبودنہیں۔‘‘
نبی اکرم ﷺچونکہ پوری دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے‘لہٰذا آپ نے پوری نوعِ انسانی کو وہی دعوت دی جو تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو دی تھی۔
{یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ الَّذِیْ خَلَـقَـکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّــکُمْ تَـتَّقُوْنَ(۲۱)}(البقرۃ)
’’اے لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ(مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو۔‘‘
دُنیا میں افراط اور تفریط کے دھکوں سے بچ سکو اور آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچ سکو۔ لہٰذا ہمارا اصل کام بندگی ہے ۔ اللہ ہمارا رب ہے اور ہم اس کے عبد ہیں ۔عبادت لفظ عبد سے بنا ہے۔ یعنی ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بندے اور غلام ہیں اور غلام کا کوئی کام متعین نہیں ہو تا ‘ کوئی وقت متعین نہیں ہوتا ‘کوئی استحقاق نہیں ہوتا۔ اللہ جتنا چاہے دے دے ‘لیکن غلام کا کام اپنے رب کی محض اطاعت اور فرماںبرداری کرناہے۔ جو دنیا میں غلامی اختیار کرے گا تو آخرت میں اسے آزادی ملے گی۔جو دنیا میں مادر پدر آزاد ہوگا‘ آخرت میں اس کے لیےغلامی ہوگی اور وہ زنجیروں کے اندر جکڑا جائے گا ۔ حضور ﷺنےفرمایا کہ دنیا مؤمن کے لیےقید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔ یہاں پر تو وضو ‘نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ دین کی دعوت ‘دین کی اقامت ‘نظم و ضبط ‘اخوت اور محبت کی ساری چیزیں اختیار کرنا واقعتاً قید خانہ کی طرح مشقتیں ہی محسوس ہوتی ہیں ۔ عبادت کی اصل روح یہ ہے کہ پوری زندگی میں اللہ کی محبت سے سرشار ہو کر اُس کی کامل اطاعت کی جائے ۔یعنی
Total obedience with love and affection in the whole life
اس ضمن میں دو چیزیں بہت اہم ہیں: عبادت اور محبت ۔یہی ہر انسان کا مقصد ِتخلیق ہے ۔
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶) }(الذّٰریٰت)
’’اور مَیں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
اطاعت اگر محبت سے خالی ہو گی تو یہ فقط رسمی ہوگی ‘مجبوری کی اطاعت ہوگی ‘مارے باندھے کی اطاعت ہوگی ۔ بقول علامہ اقبال:؎
رہ گئی رسم اذاں‘ روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا‘ تلقین غزالی نہ رہی!اطاعت اگر جزوی ہے تو پھر یہ اللہ کی اطاعت نہیں بلکہ اپنے نفس کی اطاعت ہے جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ نفس کے لیے جو چیز آسان ہے وہ انسان کر لیتا ہے اور نفس کے لیے جو چیز مشکل ہے اس کو پس ِپشت ڈال دیتا ہے۔
عبادت اور عبادات کا باہمی تعلق
لوگوں سے جب پوچھا جاتا ہےعبادت کے معنی کیا ہیں تو کہتے ہیں کہ نماز ‘روزہ ‘حج ‘ زکوٰۃ‘یعنی عبادات‘ جب کہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ عبادات درحقیقت عبادت کے لیے سپورٹ کا کام دیتی ہیں‘ جیسے کوئی چھت ہے تو اس کے نیچے ستون کھڑے کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا:((اَلصَّلَاۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ))۔کوئی خیمہ کھڑا کرنا ہو تو اس کے سہارے کے لیے بانس لگائےجاتے ہیں تاکہ وہ کھڑاہو سکے۔ اصل مقصد بانس لگانا نہیں ہوتا۔ درحقیقت عبادت کا تصوّر پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہو کر اُس کی کامل اطاعت اور فرماں برداری کرنا ہےجس کے لیے عبادات مدد فراہم کرتی ہیں ۔ نماز انسان کو اللہ کی بندگی کی یاد دلاتی ہے‘ ایمان کو تازہ کرتی ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں ہم پڑھتے ہیں:
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ}
’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ‘‘
اسی طرح نفس کے اندر جو خواہشات‘ تمنائیں ‘شہوات اور مرغوباتِ نفس ہیں ان کو قابو کرنے کے لیے روزہ جیسی عبادت اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی تاکہ ہم اُس کی بندگی کا حق ادا کر سکیں۔ دل میں چونکہ مال کی محبت بہت زیادہ قوی ہوتی ہے لہٰذا اس محبت کو کھرچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا نظام دیا۔حج عبادات میں سے جامع ترین ہے۔ اس میں انسان سفر بھی کرتا ہے‘ خرچ بھی کرتا ہے اور مشقت بھی جھیلتا ہے۔طواف بھی ہے ‘سعی بھی ہے‘ رمیٔ جمرات بھی ہے۔
دعوتِ بندگی
دوسرا تقاضا ہے ’’دعوتِ بندگی ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام کو آگے پہنچانا۔ جب ہمیں یہ شعور حاصل ہوگیا کہ ہماری تخلیق کا مقصد اللہ کی بندگی ہے تو اب ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی دعوت اپنے بھائیوں کو بھی دیں۔اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃ)) ’’دین نصح و خیر خواہی ہے‘‘۔دین خلوص اور اخلاص کا نام ہے ‘وفاداری سے عبارت ہے۔ جب پوچھا گیا : اے اللہ کے رسولﷺ! کس کی وفاداری اور کس کی خیر خواہی؟فرمایا:’’ اللہ کی ‘اُس کی کتاب کی ‘اُس کے رسول کی اور مسلمانوں کے جو حکمران ہیں‘ امراء ہیں اور عوام الناس‘ تمام لوگوں کی خیر خواہی ۔‘‘ (صحیح مسلم) اسی خیر خواہی کے تقاضے کے تحت اب ہم وہی دعوت اپنے ساتھیوں کو بھی دیں‘ البتہ اس میں ہمارا اپنا کوئی مقصد نہ ہو ۔ کوئی علمیت کی دھونس جمانا مقصود نہ ہو۔
ختم نبوت کا منطقی تقاضا بھی یہی ہےجس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے خود بھی عمل کیا۔ وہ دس افراد جن کو دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی یعنی عشرئہ مبشرہ ‘ان میں سے چھ افراد وہ ہیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت پر ایمان لائے۔یہ دعوت دینا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم بنی نوعِ انسان پر حُجّت قائم کر سکیں۔ دنیا میں اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی رسول ‘ نہ وحی آئے گی نہ ہی کتاب۔ دنیا میں انسان تو پیدا ہو رہے ہیں۔ ان تک یہ پیغام اب اُمّت ِمسلمہ نے پہنچانا ہے ‘ ان پر حُجّت قائم کرنی ہے تاکہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ ہو۔ کوئی قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ’’اےاللہ! ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تیرے دین کے تقاضے کیا ہیں!‘‘ لہٰذا اب اس پیغام کو آگے پہنچانا اُمّت ِمسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ نےخطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا :((فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ))(متفق علیہ) یعنی اب جو یہاں موجود ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ اُن تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔
اگر نہ پہنچایا تو حُجّت الٹی ہم پر قائم ہو جائے گی۔ قیامت کے دن وہ کہیں گے کہ اے اللہ‘ مسلمان یہ تھے‘ کتاب ان کے پاس تھی‘ رسول ان کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے نہ خود عمل کیا نہ ہم تک پہنچایا۔ یہ خزانے کا سانپ بنے بیٹھے رہے۔ آپ نے عذاب دینا ہے تو ان کو دیں۔ ہم تک تو دین پہنچا ہی نہیں۔ چنانچہ یہ اُمّت ِمسلمہ کی ذمہ داری ہے۔اُمّت کی غرضِ تأسیس کے ضمن میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
{وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا}(البقرۃ۱۴۳)
’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے‘‘
یعنی یہ اُمّت درمیان میں ہے‘ یہ ایک لنک ہے۔ ایک طرف محمد ﷺسے لے رہے ہیں اور دوسری طرف آگے پہنچا رہے ہیں۔اس کا ترجمہ ’’بہترین اُمّت‘‘ بھی ہے۔ اگر یہ بہترین اُمّت ہے اور درمیانی اُمّت ہے تو اس لیے کہ:
{ لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاط}(البقرة:۱۴۳)
’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ ہو۔‘‘
جیسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے دین کی گواہی دی‘ اس کا بہترین نمونہ بنا کر تمہیں دکھایا اب تم نے اس گواہی کو آگے پہنچانا ہے۔ یہ تم پر ذمہ داری ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ ہم اُمّت ِمسلمہ ہیں توجنت ہمارا پیدائشی حق ہے۔ جنت یقیناً ہر شخص کی خواہش بھی ہے‘ دعا بھی ہے لیکن اس کے لیے بحیثیت امتی اس پیغام کو آگے پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ البتہ یہ پیغام قرآن مجید کی وساطت سے پہنچایا جائے گا:
{فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ(۴۵)}(قٓ)
’’(اے نبی ﷺ!)پس نصیحت کرائیے اِس قرآن کے ذریعے سے اُس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہو ۔‘‘
یا جیسے سورۃ المائدہ میں فرمایا:
{یٰٓــاَیـُّـہَا الرَّسُوْلُ بَـلِّـغْ مَـآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط }(المائدۃ:۶۷)
’’اے رسول!(ﷺ) پہنچا دیجیے جو کچھ نازل کیا گیاہے آپ کی طرف آپ کے ربّ کی جانب سے۔‘‘
اسی لیے حضور اکرم ﷺنے فرمایا :
((خَيْرُکُم مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ)) (صحیح البخاری)
’’ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو خود قرآن سیکھیں اور سکھائیں ۔‘‘
حالی نے کہاتھا:؎
اُتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اِک نسخۂ کیمیا ساتھ لایااور:؎
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادیاقامت ِ دین
دین ِاسلام کا تیسرا اور بھاری بھرکم فریضہ ہے :نظامِ خلافت کو قائم کرنا ۔ اس کے لیے یہ اصطلاحات بھی ہیں: دین کو قائم کرنا‘ اقامت ِدین ‘اظہارِ دین ‘نظامِ مصطفیٰ ﷺکا قیام‘رب کی دھرتی رب کا نظام ۔مقصد ایک ہی ہے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط }(الشورٰی:۱۳)
’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوحؑ کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہےاور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کواور موسیٰ کو اور عیسیٰ (علیہم السلام)کو کہ قائم کرو دین کواور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
پانچ عظیم ترین رسولوں کے نام لے کر ہمیں یہ وصیت کی گئی :
{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ ط}
’’دین کو قائم کرو اور اس (کو قائم کرنے) میں متفرق نہ ہوجاؤ۔‘‘
یعنی دین میں متفرق نہ ہو جاؤ یا قائم کر لینے میں متفرق نہ ہوجاؤ ۔
اب اُمّت ِمسلمہ کی فوز و فلاح اور سربلندی اس تیسرے فریضہ کی ادائیگی پر موقوف ہے ‘ ورنہ عذاب کے کوڑے پڑتے رہیں گے۔۱۲۵۸ءمیں منگولوں کے ہاتھوں اتنا بڑا کوڑا برسا کہ عراق کے اندر مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہ گئیں۔ اسی طرح۱۴۹۲ء میں سپین سے مسلمانوں کا اخراج ہوا اور ایک مسلمان بھی باقی نہ رہا ۔ جو مسلمان آٹھ سوسال سے وہاں حکومت کررہےتھےان کونکال دیاگیا۔ یہ عذاب کا دوسرا کوڑا تھا۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد اکثر مسلمان ممالک یورپ کے زیر نگیں آگئے۔ان کو تقسیم کر کے چھوٹے چھوٹے ملک بنا دیے گئے ۔ کہیں انگریزوں کا‘ کہیں فرانسیسیوں کا‘ کہیں ولندیزیوں کاقبضہ ہوگیا ۔یہ دَور بھی ہم نے دیکھا۔یہ عذاب کے کوڑے ہیں۔ آج اگر دیکھیں کہ فلسطین کا کیا حال ہے‘ غزہ کا کیا حال ہے‘ کشمیر کا کیا حال ہے ‘شام ‘عراق‘ لیبیا ‘روہنگیا‘ ہندوستان کےمسلمانوں کا کیا حال ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ اُمّت ِمسلمہ بہت بڑے زوال سے دو چارہے ۔ بقول حالی:؎
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ اُبھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مدّ ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے!اُمّت کے اندر جس اتحاد کی دعائیں ہم مانگتے ہیں وہ نظر نہیں آتا‘سوائےقرار دادِمذمت کے یا پھر کبھی کبھار کوئی ایک نعرہ لگا دیابس۔ اُمّت ِمسلمہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ غزہ کے مسلمان کس بہادری کے ساتھ شہادت پا رہے ہیں۔ بچے اور عورتیں شہید ہو رہے ہیں۔ ہسپتال ‘تعلیم گاہیں تباہ ہو رہی ہیں۔اس کے باوجود کوئی میدان میں آنے کوتیار نہیں۔ اگر ہم سربلندی چاہتے ہیں ‘اگر ہم فوز و فلاح چاہتے ہیں تو دین حق کو قائم کرنے کی جدّوجُہد کریں۔ جو معاشرہ اللہ کے حکم کو پیچھے ڈال کردوسروں کی فرماں برداری قبول کر لے‘ یو این او کا حکم مان لےیا امریکہ کا‘ یا آئی ایم ایف کا حکم مان لےکہ ہاں ہم سود پر قرضہ لیں گے‘ عوام پر مزید ٹیکس لگائیں گے توایسامعاشرہ سرکش ‘باغی اور طاغوتی معاشرہ ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے:
{ وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(۴۴)}(المائدۃ)
’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (۴۵)}(المائدۃ)
’’اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘
{ وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)}(المائدۃ)
’’اور جو لوگ فیصلے نہیں کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکام و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘
یہ بھی فرمانِ الٰہی ہے:
{ فَمَنْ یَّـکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ج لَا انْفِصَامَ لَـہَاط وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۵۶)}(البقرۃ)
’’تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اُس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا‘جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘
لہٰذا اس فریضے کی ادائیگی کے لیے اس وقت تک جہاد جاری رکھو ‘جدّوجُہد جاری رکھو جب تک یہ سیکولر نظام جو نظریاتی (theoretically) اور عملی طور پر بھی ہم نے اپنایا ہوا ہے‘ ختم نہ ہو جائے اور دین کل کا کل اللہ کے لیے نہ ہوجائے۔
آخری بات یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ۔ ہمیں اس سے محبت بھی ہے اور یہ ایک خاص ملک ہے:؎
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐیہ واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر وجود میں آیا ۔ پاکستان کا مطلب ہے:’’ لا الٰہ اِلا اللہ‘‘ اور اس کی بقا اور استحکام بھی نفاذِ اسلام میں ہے۔ جب تک یہاں اسلام کا نفاذ نہیں ہوتا ‘نہ اس کی بقا ہے اور نہ ہی اس کا استحکام ۔ واقعہ یہ ہے کہ انتشار ہی انتشار رہے گا۔ ذہنی انتشار بھی رہے گا ‘ سیاسی انتشار بھی رہے گا اور ساتھ معاشی غلامی ‘سیاسی غلامی ‘دہشت گردی ‘اخلاقی تنزلی اور مغربی تہذیب سے مرعوبیت اور فرقہ واریت‘یہ سب چیزیں بڑھتی چلی جائیں گی۔ قتل ہوتے رہیں گے اور امن کا بیڑا غرق ہوتا رہے گا ۔یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اس فریضہ کے لیے جدّوجُہد کو پس ِپشت ڈال دیا۔
یہ ہیں وہ تقاضے یعنی خود دین پر عمل پیرا ہونا‘ اللہ کے کلام کو آگے پہنچانا اور پھر دین حق کو قائم کرنے کی جدّوجُہد کرنا‘ محنت کرنا‘ کوشش کرنا۔ جب اللہ چاہے گا تو دین بھی قائم ہوجائے گا‘ لیکن کوشش ہمارے ذمہ ہے۔ اسی کو جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں ۔یہی جہاد ہے‘ یہی محنت ہے کہ اللہ کا دین سر بلند ہو جائے۔ وقت بہت تھوڑا ہے‘ حالات بڑی تیزی سے پلٹا کھا رہے ہیں‘ قیامت کی نشانیاں بڑی تیزی کے ساتھ ہمارے سامنے آرہی ہیں۔ ہم نے اس کام کو آگے بڑھانا ہے۔ ہم نے اپنی کوششوں کو ‘اپنی محنت کو دگنا کرنا ہے۔ یہ فریضہ پوری خیر خواہی کے ساتھ سرانجام دینا ہے۔ دوسروں کو سمجھانا ہے۔؎
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو دین ِاسلام کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربّ العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2025