اہتمام و انصرامِ نوم
(Sleep Management)
سعد عبداللہ• آج کا انسان اپنی زندگی میں طرح طرح کی جسمانی‘ روحانی اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہے۔ اس کے مختلف اسباب ہیں‘ جن میں سے ایک اہم سبب دن اور رات کے اوقات کی پابندی نہ کرنا ہے۔عموماً لوگ رات گئے تک جاگتے رہتے ہیں اور صبح دیر تک پڑے سوتے رہتے ہیں جس سے بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں۔
• قرآنِ حکیم میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ دن محنت و مشقت جبکہ رات آرام کے لیے بنائی گئی ہے۔ ذیل میں چند آیات پیش کی جاتی ہیں:
{وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا(۹) وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا(۱۰) وَّجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا(۱۱)} (النباء)
’’اور ہم نے نیند کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا‘ اور رات کو تمہارے لیے پردہ بنایا‘ اور دن کو تمہارے لیے معاش کا وقت بنایا۔‘‘
{وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا(۴۷)}(الفرقان)
’’اور وہی (اللہ ) تو ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ بنایا اور نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۔‘‘
{وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط} (الروم:۲۳)
’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا رات میں سونا اور دن میں اس کا فضل (رزق) تلاش کرنا۔‘‘
• اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک نظام کے تحت خلق کی ہے۔ چاند‘ سورج اپنے نظام العمل کے مطابق چل رہے ہیں۔ اسی طرح نیند کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ وقت کا تعین کیا ہے۔ ایک عام تصور یہ ہے کہ کسی بھی وقت سونے سے نیند کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے یعنی تھکن وغیرہ پوری ہو جاتی ہے جبکہ اصل اہمیت نیند کے اوقات کار کی ہے جس میں تھکن ختم ہوتی اور انسان چاق چوبند ہوتا ہے۔
تنظیم المنام ہماری دینی زندگی کا لازمی جزو ہے جس کی ترتیب کا خیال رکھنا ہر بندہ مؤمن پر لازم ہے۔ جو لوگ زیادہ کام کرنے والے ہیں وہ اس حوالے سے لازماً اچھے ہوں گے ۔
صبح کا وقت
• سیدنا صخر غامدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :
((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِاُمَّتِیْ فِیْ بُکُوْرِھَا)) (سنن ابی داوٗد:۲۶۰۶)
•’’اے اللہ! میری اُمّت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔‘‘
• بعض کتب ِحدیث میں روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’صبح کی نیند رزق کو روک دیتی ہے۔‘‘ (مسند احمد)
تاہم محدثین کے نزدیک یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔
• دن اصل میں فجر سے ظہر کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فجر کی نماز کا وقت ہماری نیند میں خلل ڈالنے کے لیے نہیں رکھا بلکہ یہ وقت تخلیقی کام کے لیے آئیڈیل ہے۔
قیلولہ
• قیلولہ آپﷺ کی مستقل سنت ہے۔قیلولہ کرنے کے بعد انسان کا دن دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ۔
• سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہنبی اکرمﷺ نے فرمایا:
((قِیْلُوْا فَاِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَا تَقِیْلُ)) (سلسلہ احادیث صحیحہ:۶۴۷)
’’ قیلولہ کیا کرو‘ بے شک شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔‘‘
۱۱ بجے سے عصر تک کے درمیان کسی وقت بھی قیلولہ کیا جا سکتا ہے ۔یہ عمل ہمارے جسم کو دوبارہ کام کرنے کے لیے تروتازہ کر دیتا ہے۔ قیلولہ کے دوران نیند آنا ضروری نہیں ہے۔
رات (عشاء)
• شریعت میں عشاء کے بعد دنیوی بات کرنا تک مکروہ ہے ۔آپﷺ نے مغرب کے بعد سونے کو ناپسند فرمایاجبکہ عشاء کے بعد دنیاوی گفتگو کرنے کو ناپسند فرمایا۔ (ترمذی)
• بڑے شہروں کی بنسبت دیہاتوں اور قبائلی علاقوں میں یہی طرزِ زندگی نظر آتا ہے۔
• اگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے معمولات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتے تھے۔ آدھی رات یا تہائی رات میں وہ تہجد ادا کرتے تھے۔
کھانے اور سونے کا تعلق
• جو شخص وقت پر سوئے گا وہ بہت کم بیمار ہوگا۔شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو ڈاکٹر یہی مشورہ دیتے ہیں کہ کھانے اور سونے کے اوقات مقرر کر لیں۔ سونے سے پہلے چائے یا کافی پینا بڑا خطرناک ہے۔ یہ چیزیں نیند کو منفی طور پر متاثر کرتی ہیں۔
مرنے والی اُمتوں کا عالم پیری
• جب مغل سلطنت کمزور ہوگئی اور اس کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر تخت نشین تھے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے دہلی کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ انگریز سپاہیوں کا روزانہ کا معمول کچھ اس طرح تھا کہ دن کا آغاز چار بجے ہوتا‘ پھر ڈرل ہوتی ‘پھر ناشتہ ‘صبح ۱۱ بجے کھانا‘ پھر آرام۔ ۷ بجے عشائیہ‘پھر چھوٹی موٹی light gathering اور دن کا اختتام ۔اس کے برعکس بادشاہت کی صورت حال یہ تھی کہ جیسے ہی مغرب کی اذان ہوتی تو شہر کے شرفاء ایک جگہ جمع ہوتے‘ مشاعرہ ہوتا۔ غالب اور بہادر شاہ ظفر بھی شاعری کرتے۔عشاء تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔پھر کچھ لوگ چلے جاتے اور اشرافیہ کے لیے رقص کا آغاز ہوتا جو اس حال میں ختم ہوتا کہ جب لوگ گھر جارہے ہوتے تو فجر کی اذان ہورہی ہوتی ۔اقبال نے بجا فرمایا: ع ’’یہی ہے مرنے والی اُمتوں کا عالم ِپیری!‘‘
غیر ضروری یا غیر وقت سونے کے نقصانات
• صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
• دماغ موٹا ہو جاتا ہے۔زیادہ سونے والے ذہین نہیں ہوتے۔
• نظر کمزور ہو جاتی ہے۔
• جسم میں کولیسٹرول بڑھنے لگتا ہے۔
• شوگر کی بیماری ہو جاتی ہے۔
سونے کی سنتیں
جلدی سونا ‘جلدی اٹھنا
• عشاء کی نماز سے پہلے نہ سونا
• سونے سے پہلے بستر جھاڑ لینا
• باوضو سونا:حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
((مَا مِن مُسْلِم يَبِيتُ علٰى ذكر طاهِرًا، فيتعار مِنَ اللَّيل، فيسألُ اللّٰهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنيا وَالآخِرَةِ إلَّا أعطاه إيَّاهُ)) (سنن ابی داوٗد)
’’جو شخص وضو کی حالت میں ذکر کرتے ہوئے سو جائے اور پھر جب رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھلے یا بستر پر وہ کروٹ لے‘ اس وقت وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کی جو بھی دعا مانگے گا‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ ضرور عطا فرمائیں گے۔‘‘
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جب تم سونے لگو تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرو‘ پھر دائیں کروٹ لیٹ جاؤ اور یہ دعا پڑھو:
((اَللّٰهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ)) (صحیح البخاری)
’’اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا۔ اپنا معاملہ تیرے ہی سپرد کر دیا۔ میں نے تیرے ثواب کی توقع اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا۔ تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ اے اللہ! جو کتاب تو نے نازل کی اور جو نبی (ﷺ) تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا۔‘‘ اگر تم اس حالت میں اسی رات مرگئے تو فطرت پر مرو گے۔ اور اس دعا کو سب باتوں کے اخیر میں پڑھو۔‘‘
• سونے کی دعا پڑھنا:
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا
’’اے اللہ! مَیں تیرے نام سے مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔‘‘
• نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹے تو پہلے اپنا بستر اپنے ازار (کسی چادر وغیرہ) کے کونے سے جھاڑ لے ‘کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی بے خبری میں کیا چیز بستر پر آگئی ہو۔ پھر یہ دعا پڑھے:
بِاسْمِکَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِیْ وَبِکَ اَرْفَعُہُ، اِنْ اَمْسَکْتَ نَفْسِیْ فَارْحَمْھَا، وَاِنْ اَرْسَلْتَھَا فَاحْفَظْھَا بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصَّالِحِیْنَ (صحیح البخاری)
’’پروردگار!میں تیرے نام پر اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں۔ اگر تو میری جان کو روک لے تو تُو اس پر رحم فرما ‘اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘
آیۃ الکرسی‘ سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھنا:
• نبیﷺ نے فرمایا: جب تم بستر پر سونے کے لیے جاؤتو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو‘ اس کی وجہ سے اللہ کی طرف سے تم پر ایک نگہبان (فرشتہ) مقرر ہو جائے گا اور شیطان صبح تک تمہارے قریب نہ آسکے گا۔
• سورۃالاخلاص‘ سورۃ الفلق‘سورۃالناس تین مرتبہ پڑھ کر اپنے آپ پر دَم کرنا۔
• سونے سے پہلے روشنی بند کرنا ‘ دروازہ بند کرنا ‘پانی کا برتن ڈھکنا‘ کھانے کا برتن ڈھکنا۔
• اگر بُرا خواب آئے تو الٹی طرف تین مرتبہ تھوکنا اور تعوذ پڑھنا۔
• نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
’’بیشک اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور بُرا خواب (جس میں گھبراہٹ ہو) شیطان کی طرف سے ہوتا ہے‘ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو بُرا اور ناگوار ہو تو جاگتے ہی تین مرتبہ بائیں طرف تھو تھو کرے اور اس خواب کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے‘ اس طرح کرنے سے بُرے خواب کا اسے نقصان نہیں ہوگا۔‘‘(بخاری)
• نبیﷺ نے فرمایا:
’’اپنا خواب صرف کسی عالم یا خیر خواہ ہی سے بیان کرو۔‘‘ (سنن الدارمی)
• اگر ممکن ہو تو قبلہ رخ پاؤں نہ کرنا۔
• سیدھی طرف سونا‘اوندھے منہ نہ سونا۔
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے جب کہ میں اپنے پیٹ کے بل یعنی اوندھا لیٹا ہوا تھا ۔ آپﷺ نے یہ دیکھ کر اپنے پاؤں سے مجھے متوجہ کیا اور فرمایا: ’’جندب(حضرت ابوذر ؓ کا نام ہے)! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح لیٹنا دوزخیوں کا طر یقہ ہے۔‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)
• سب کو معاف کرکے سونا
• فرائض ادا کر کے سونا
• اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اور توبہ کرکے سونا۔ دنیا کا سب سے بڑا رِسک بغیر توبہ کیے سونا ہے۔
• وصیت کرکے سونا
tanzeemdigitallibrary.com © 2025