(رجوع الی القرآن) تعلّم و تعلیم ِقرآن: کیوں اور کیسے؟ - پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق

17 /

تعلّم و تعلیم ِقرآن : کیوں اور کیسے ؟پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق
پروفیسر‘پشاور میڈکل کالج‘ پشاور

رمضان کی عظمت قرآن کی وجہ سے ہے۔ اس میں قرآن نازل ہوا اور اسی میں لیلۃ القدر بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ قرآن اور رمضان کا آپس میں گہرا ربط ہے۔رمضان کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے اور قرآن متقین کے لیے ہدایت ہے۔ تقویٰ کا حصول قرآن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔رمضان کے مہینے میں قرآن کواپنی تمام مصروفیات کا محور بنا لینا چاہیے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ)) (متفق علیہ)
’’جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور خود احتسابی کے ساتھ‘ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔اور جو رمضان کی راتوں میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور خود احتسابی کے ساتھ‘ اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘
دنیا میں ہرمشین کا مقصد اس کےبنانے والے نے ’’ہدایت ِعملیہ‘‘(Operation Manual) میں بیان کیا ہوتا ہے۔ بحیثیت انسان دنیا میں ہمارا مقصد اور زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے؟ اس سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب جاننے کے لیے ہمیں اپنےبنانے والے (خالق) ہی کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا ‘ جس نے قرآن ’’ہدایت ِعملیہ‘‘ کی صورت میں ہمیں عطا فرمایا اورسُنّت ِرسول اللہ ﷺ اس کی عملی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ نہ صرف انسانوں کی ضرورت بلکہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم بھی ہے کہ مقصد ِحیات اور طریقہ زندگی معلوم کرنے کے لیے ہمیںبے یارو مددگار نہیں چھوڑا گیا ۔
بدقسمتی سے آج عملی زندگی میں قرآن ہمارا راہنما نہیں ہے۔ہم نے نظام زندگی کے لیے قرآن کی بجائے عملاً دوسروں کو رہنمابنا لیا ہے۔ ؎
مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے!
ہمیں قرآن کی اہمیت اور افادیت کا صحیح ادراک ہی نہیں ہے‘ اس لیےاوروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔قرآن سے دوری ہی مسلمانوں کے زوال کا ایک بنیادی اور اہم ترین سبب ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نےرسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا :
’’میرے پاس جبریلؑ آئے اور کہنے لگے کہ: اے محمد ﷺ! آپ کی اُمّت آپ کے بعد اختلافات میں پڑ جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ :اے جبریل! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا:قرآن کریم‘ اسی کے ذریعے اللہ ہر ظالم کو تہس نہس کرے گا۔ جو اس سے مضبوطی کے ساتھ چمٹ جائے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا ۔یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی۔‘‘ (مسند احمد)
ہماری موجودہ حالت
آج اُمّت کا عمومی رویہ ‘معاذاللہ‘ ایسا لگتا ہے جیسے یہودیوں کا تورات کے بارے میں تھا :
{مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّـوْرٰىۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاط بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللہِ ط وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۵)} (الجمعۃ)
’’جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ‘ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ بہت بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ‘‘
کیا قرآن سیکھنا فرض ہے؟
قرآن پڑھنے/سیکھنے سے کوئی مسلمان انکارنہیں کرتا‘ لیکن وہ اسےمحض ثواب کا کام سمجھتا ہے۔ یہ احساس کم ہی ہے کہ قرآن سیکھنا کتنا اہم فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍط}( القصص:۸۵)
’’(اے نبی ﷺ !) یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔ ‘‘
یعنی اس قرآن کو خلق خدا تک پہنچانے ‘اس کی تعلیم دینے اور اس کی ہدایت کے مطابق دنیا کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری آپؐ پر ڈالی گئی ہے:
{وَہٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰـہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ(۱۵۵)}(الانعام)
’’ اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ‘پس اس کی پیروی کرو اور (اللہ کی نافرمانی سے ) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
سورۃ الزخرف میں ارشادفرمایا :
{ فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْکَ ج اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۴۳) وَاِنَّـہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ ج وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ (۴۴)}
’’(اےپیغمبرﷺ!) تم اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ‘ یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے ‘اور عنقریب تم لوگوں سےاس کی بابت باز پرس ہوگی۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کرنے کے بعد مسلمانوں کو اس کااتباع کرنے اور اس کی جواب دہی کا مسئول بنایا۔ انسان مسئول تب ہی ہو سکتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کتاب میں میرے لیے کیا احکام ہیں جن کا میں نے حساب دیناہے!پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ وغیرہ فرض کیے ہیں جن کی ادائیگی اس وقت تک صحیح طور پر نہیں ہو سکتی جب تک ان کے بارے میں بنیادی تفصیلات معلوم نہ ہوں‘اسی طرح زندگی گزارنے کے لیے قرآن کے بنیادی احکام کو سیکھنا ‘ ماننا اور ان پر عمل کرنا بھی فرائض میں سے ہے ۔ یہی قرآن کی فرضیت ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمد ؒ نے مسلمانوں پر قرآن مجید کے پانچ حقوق بیان کیےہیں:
(۱) قرآن پر ایمان لانا
(۲) اس کی تلاوت کرنا
(۳) اس کے معانی کو سمجھنا اور اس میں غور و فکر کرنا
(۴) اس پر عمل کرنا
(۵) اسے دوسروں تک پہنچانا۔
قرآن کے انہی حقوق کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا!
قرآن نہ سمجھنے/چھوڑنے والوں کا انجام
(iروز ِمحشر اندھا اُٹھایا جانا
{ وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی(۱۲۴) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵) قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَہَاج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی(۱۲۶) } (طٰہٰ)
’’اور جو میرے ذکر (قرآن) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: پروردگار! دنیا میں تو مَیں آنکھوں والا تھا ‘ یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو ‘جب کہ وہ تیرےپاس آئی تھیں‘ تُو نے بھلا دیا تھا۔ اسی طرح آج تُو بھلایا جارہا ہے۔‘‘
(ii قرآن چھوڑ نے والوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ کی گواہی : سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے :
{ وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا(۳۰)}
’’اور رسولؐ کہے گا : اے میرے ربّ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑی ہوئی چیز بنادیاتھا۔‘‘
اس آیت کی تشریح میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ بیان کرتے ہیں:
’’تاویل ِخاص کے مطابق حضورﷺ کی یہ شکایت قریشِ مکّہ کے بارے میں ہے کہ اے میرے پروردگار! میں نے تیراپیغام ان تک پہنچانے اور انہیں قرآن سنانے کی ہر امکانی کوشش کی ہے ‘لیکن یہ لوگ کسی طرح اسے سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں‘جبکہ اس آیت کی تاویل ِعام یہ ہے کہ حضورﷺ کی یہ شکایت قیامت کے دن اپنی اُمّت کے اُن افراد کے خلاف ہو گی جو اس ’’مہجوری‘‘ کے مصداق ہیں‘کہ ان لوگوں نے قرآن کو لائق ِالتفات ہی نہ سمجھا۔ علّامہ اقبال کے اس مصرعے میں اسی آیت کی تلمیح پائی جاتی ہے : ع ’’خوار از مہجوریٔ قرآں شدی‘‘ کہ اے مسلمان آج تُو اگر ذلیل و خوار ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ تُو نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک بہت اہم اور قابلِ غور نکتہ یہ بھی ہے کہ قریش ِ مکّہ نے تو اپنی خاص ضد اور ڈھٹائی میں قرآن کو اس موقف کے تحت ترک کیا تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ہی نہیں اور محمد (ﷺ) نے خود اپنی طرف سے اسے گھڑلیا ہے۔ لیکن آج اگر کوئی شخص کہے کہ میں قرآن پر ایمان رکھتا ہوںاوراسے اللہ کا کلام مانتا ہوں ‘ مگر عملی طور پر اس کا رویّہ ایسا ہو کہ وہ قرآن کو لائق ِاعتناء نہ سمجھے‘ نہ اسے پڑھنا سیکھے‘ نہ کبھی اس کے پیغام کو جاننے کی کوشش کرے تو گویا اس کے حال یا عمل نے اس کے ایمان کے دعوے کی تکذیب کر دی۔ چنانچہ اس آیت کے حاشیے (ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ) میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں: ’’آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے‘تا ہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا‘ اس میں تدبر نہ کرنا‘ اُس پر عمل نہ کرنا‘ اُس کی تلاوت نہ کرنا‘ اس کی تصحیح قراء ت کی طرف توجّہ نہ کرنا‘ اُس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجّہ ہونا‘ یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجرانِ قرآن کے تحت میں داخل ہو سکتی ہیں۔‘‘
تفسیر ابن عباسؓ میں اس کی تشریح یوں کی گئی ہے کہ اس روز رسول اکرم ﷺفرمائیں گے: اے میرے پروردگار !اس قوم نے اس قرآن کریم کو ‘ جو واجب العمل اور واجب الاعتقاد تھا‘ بالکل نظر انداز کر رکھا تھا کہ اس کی طرف التفات ہی نہیں کرتے تھے ‘اس پر عمل تو درکنار۔
ابن کثیرؒ نے تشریح میں لکھا ہے کہ روزِ محشر نبی کریم ﷺخود اپنی اُمّت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ ان لوگوں نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔قرآن کو سننے سے گریز‘ اس میں شور ڈالنا اور اس پر ایمان نہ لانااسے چھوڑنا ہے۔ اسی طرح بقدرِ ضرورت اس کا علم حاصل نہ کرنا‘ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش نہ کرنا‘ اس کے اوامر پر عمل نہ کرنا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز نہ آنا بھی اسے چھوڑنا ہے۔ اسے چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اختیار کرنا‘ اور لوگوں کے اقوال و آراء اور ان کے بنائے ہوئے طریقوں کو قرآن پر ترجیح دینا بھی اسے چھوڑنا ہے۔
یہ آیت ہماری خصوصی توجہ کی مستحق ہے ‘کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ خود کسی کے خلاف گواہی دیں تو ایسا بدقسمت شخص اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے کیسے بچ سکتا ہے؟
(iii اللہ کا انتقام:اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی گناہ کے ارتکاب کے بارے میں خود انتقام لینے کا ذکر کم ہی کیا ہے‘ لیکن قرآن کو پس پشت ڈالنے پر فرمایا:
{وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْہَاط اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ(۲۲)}(السجدۃ)
’’اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اُس کے ربّ کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے !ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔ ‘‘
(ivدنیا میں شیطان سے گہری دوستی
{ وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَـیِّضْ لَـہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ(۳۶) وَاِنَّہُمْ لَیَصُدُّوْنَہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ مُّہْتَدُوْنَ(۳۷)} (الزخرف)
’’جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے‘ ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں‘ اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں۔‘‘
قرین ایسے ساتھی کو کہتے ہیں جو ہر وقت ساتھ لگا رہے۔ہمیں پوری سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں کہ قیامت کے دن:
* ہم اندھے اٹھائے جائیں اور اللہ کو ہماری کوئی پروا نہ ہو؟
* رسول اللہﷺ ہمارے خلاف اللہ کے دربار میں گواہی دیں؟
* اللہ ربّ العزت ہم سے انتقام لے؟
جبکہ دنیا میں:
* ہر وقت شیطان ہمارا قریبی اور گہرا ساتھی بنا رہے؟
ان سوالوں کے جواب ہر مسلمان یقیناً نفی ہی میں دے گا۔ پس ہمیں آج ہی سنجیدگی سے قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لینا چاہیے۔ کیا ان تمام کھلی تنبیہات کے باوجود کوئی یہ حسنِ ظن رکھ سکتا ہے کہ وہ قرآن سمجھے اور اس پر عمل کیےبغیربھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوسکےگا؟
کیا قرآن سیکھنا مشکل ہے؟
بدقسمتی سے یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ قرآن ایک مشکل کتاب ہے اور اس کو سیکھنے کے لیے بہت سے علوم درکار ہیں۔ اس کا سیکھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے اور یہ صرف علماء کاکام ہے‘جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} (القمر)
’’اوریقیناً ہم نےاس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے ‘ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنےوالا؟‘‘
مفتی محمد شفیع ؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’قرآن کریم نے اپنے مضامین ِعبرت و نصیحت کو ایسا آسان کر کے بیان کیا ہے کہ جس طرح ایک عالم و ماہر‘ فلسفی اور حکیم اس سے فائدہ اٹھاتا ہے‘ اسی طرح عام لوگ جن کو علوم سے کوئی مناسبت نہ ہو وہ بھی عبرت و نصیحت کے مضامین کو سمجھ کر اس سے متاثر ہوتے ہیں۔‘‘ (معارف القرآن)
علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن کو معنی ا ور مضامین ِعبرت و نصیحت کے اعتبار سے عام لوگوں کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے ‘البتہ مسائل اور احکام کا استنباط و اجتہاد صرف علماء کرام ہی کاکام ہے ۔
متذکرہ بالا آیت سورۃ القمر میں چار مرتبہ دہرائی گئی ہے‘ اورہربار اس سے پہلے فرمایا گیاہے:
{فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ }
’’دیکھ لو‘ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات!‘‘
اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس آسان کتاب کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرو گے تو پھر میرے عذاب کے لیے تیار رہو۔
قرآن سیکھنے کے درجے(Levels)
یہ بات پیش نظر رہے کہ عام آدمی کی حیثیت ایک طالب علم کی ہے اور اس کے لیے تذکرکی حد تک قرآن سیکھنا فرض ہے تاکہ وہ عمومی اوامر(احکامات) و نواہی (ممنوعات)کو جان لے۔ البتہ عصری دینی مسائل کے استنباط یا اجتہاد کے لیے قرآن پر تدبر صرف علماءکرام و فقہائے عظام کا کام ہے۔ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق اس کی تشریح و تفسیر روزِ قیامت تک ہوتی رہے گی اور اس کے مطالب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
قرآن سیکھنے کا مقصد
قرآن سیکھتے وقت یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم اسے کیوں سیکھ رہے ہیں! اصل مقصد‘ زندگی کے ہر موڑپر قرآن سے عملی راہنمائی حاصل کرنا ہے تاکہ ہم صراطِ مستقیم پر قائم رہیں۔ قرآن کے اسرارو رموز پر تدبر‘اس کے علمی اعجاز ‘ علم میں اضافہ کرنا یا اس کی آیات کی تکوینی تشریحات سے لطف اندوزہونا اس کے ضمنی فوائد ہیں ۔
قرآن نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زندگی کی کایا پلٹ دی تھی کیونکہ ان کا قرآن سیکھنا ’’علم برائے عمل‘‘ کے لیےتھا۔ابو عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی مسند احمد کی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے:
’’ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبی کریم ﷺ سے دس دس آیات پڑھتے تھے اور اگلی دس آیات اس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک کہ پہلی دس آیات میں علم و عمل سے متعلق چیزیں اچھی طرح سیکھ نہ لیتے۔یوں ہم نے علم وعمل کو حاصل کیا ہے۔‘‘
صحابہ کرامؓ قرآن کو عمل کے لیے پڑھتے تھے۔مثلاً جب آیت:
{لَــنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْ ئٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیْمٌ(۹۲)}(آل عمران)
’’ تم ہرگزنیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو ۔اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘
نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیرحاء کامحبوب ترین باغ‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خیبرکی بہترین زمین اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا محبوب ترین گھوڑا اللہ کی راہ میں دےدیا۔اسی طرح جب شراب کی حرمت کا حکم آیا:
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَـعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)}(المائدہ)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے‘ یہ سب گندے شیطانی کام ہیں‘ ان سے پرہیز کرو‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔‘‘
تولوگوں نے منہ سےلگے شراب کے پیالے ہٹادیے۔ شراب کےپیالے اورمٹکے توڑ دیے۔ مدینہ میں اُس روز اتنی شراب بہا ئی گئی کہ ایک عرصے تک جب بارش ہوتی تو شراب کی بو اور رنگ مٹّی میں نکھر آتا تھا۔
قرآن سے ہماری زندگی اسی لیے تبدیل نہیں ہو رہی کہ ہمارا مقصد یہ نہیں رہا ۔قرآن کو ’’علم برائے عمل‘‘کے مقصد سے پڑھنے / سیکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر ہر آیت میں اپنی زندگی کےلیےعملی نکات تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ان کو ترجیحاً اپنی انفرادی زندگی میں نافذکریں اور ساتھ ہی اجتماعی زندگی میں اس کے نفاذ کی جد ّو جُہد کا حصہ بنیں۔ قرآن کریم کو اس طرح سیکھنے کے لیے چند اہم باتوں کی طرف توجہ ضروری ہے؛
(ا)قرآن کے بارے میں رویّہ
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
{تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ (۸۱)} (الواقعۃ)
’’ یہ ربّ العالمین کا نازل کردہ ہے۔ پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو!‘‘
اصل الفاظ ہیں ’’اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ‘‘ ۔ اِدْھَان کے معنی ہیں کسی چیز سے مداہنت برتنا ‘ اس کو اہمیت نہ دینا‘ اس کو سنجیدہ توجہ کے قابل نہ سمجھنا۔ انگریزی میںto take lightly کے الفاظ اس مفہوم سے قریب تر ہیں۔ہم قرآن کو پڑھتے وقت یہ بات نہ بھولیں کہ اس کا اصل مقصد صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کی تعلیمات پرعمل کرنا ہے۔
(ب) شیطان کے حربے
ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کی جائے لیکن قرآن پڑھنے کی ابتدا اَعُوذُ بِاللّٰہِ سے کرنے کا حکم دیا گیا:
{فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۹۸)} (النحل)
’’پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔‘‘
شیطان کسی دوسرے عمل کے مقابلے میں قرآن فہمی میں سب سے زیادہ روڑے اٹکاتا ہے اور اس سےروکنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔چند ایک کا ذکریہاں کیا جاتا ہے:
(i)دنیاوی کاموں کو فوری اور ضروری جتلانا:شیطان دنیاوی کام مثلاً کسی سے ملاقات‘ ٹیلیفون کرنا‘ٹی وی پروگرام دیکھنا ‘موبائل فون کے میسج چیک کرنا وغیرہ کو انتہائی ضروری بنا کر پیش کرتاہے اور اکساتا ہے کہ پہلے یہ کام کر لو‘اس کے بعد قرآن بھی پڑھ لو گے۔ اگر ہم غور کریںتو ان سب کو مؤخرکیا جاسکتا ہے اور کوئی کام اتنا اہم نہیں ہوتا کہ ہم اسے قرآن سیکھنے پر ترجیح دے دیں۔
(ii)دنیاوی کام کو دینی کام کے طور پہ دکھا کر دھوکا دینا:بسا اوقات جب ہم قرآن پڑھنے/سیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو شیطان ایسے موقع پر نیکی کے دوسرے کاموں کو اہم تر اور دین کے کام کے طورپیش کرتا ہے‘مثلاً خدمت خلق کے کام‘ تعلقات نبھانا‘سیاسی جدّوجُہد میں حصہ لیناوغیرہ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن و سنت کی بنیاد کے بغیر یہ سب کام بیکار اورخسارےکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:
{قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا(۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴)} (الکہف)
’’(اے نبیﷺ ! ان سے) کہو: کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ونامراد لوگ کون ہیں؟وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جُہد راہِ راست سےبھٹکی رہی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں ۔‘‘
(iii) دین ہی کے دوسرے کام سامنے لے آنا:شیطان کا ایک اورحربہ یہ ہے کہ دین کے دوسرے کام (خصوصاً عبادات)کو اتنا خوش نما اور اہم بنا دیتا ہے کہ ہم ان میں لگ کر قرآن سیکھنے کو اپنی ترجیحات میں نچلے درجے پر لے جاتے ہیں‘ مثلاً نوافل پڑھنا ‘ تسبیحات یا ذکر و اذکار وغیرہ۔ان کی اہمیت سے انکار نہیں‘ لیکن یہ حدیث بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’اے ابوذر ؓ! تم اس حال میں صبح کرو کہ تم اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت سیکھ لو تو یہ تمہارے لیےسو رکعت نفل پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

(iv) قرآن فہمی کو مشکل بنا کر پیش کرنا:شیطان انسان سے کہتا ہے کہ تم عربی زبان‘ گرامر اورمتعلقہ ضروری علوم کے بغیر قرآن نہیں سیکھ سکتے۔غور کریں کہ کتنے لوگ اُن زبانوں کا گرامر جانتے ہیں جو وہ بولتے اور سمجھتے ہیں؟ ہمیں تو اپنی مادری زبان کے گرامر پر بھی دسترس نہیں ہوتی‘پھر ہم صرف قرآن سمجھنے کے لیے گرامر اور علوم جاننے کی شرط کیوں لگائیں؟ اگر گرامر سیکھ لیں تو بہت اچھا‘ لیکن نہیں سیکھا ہو تو یہ قرآن نہ سیکھنے کا بہانہ نہیں ہو سکتا۔

(v)استاد کے بغیر قرآن نہیں سیکھاجاسکتا: شیطان ہمیں یہ بھی باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ استاد کے بغیر قرآن نہیں سیکھا جا سکتا۔ یہ بات کسی حد تک تو یقیناً درست ہے لیکن کسی وجہ سے استاد میسّر نہ ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم قرآن سیکھنے کی کوشش کرنا ہی چھوڑ دیں۔ہمیں کسی بھی تفسیر سے قرآن سیکھنے کی انفرادی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ چند افراد مل کر اجتماعی مطالعے کا بندوبست کریں (تفصیل آخرمیں دےگئی ہے) لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ ہم نے تفاسیر پڑھنی اور سیکھنی ہیں ‘خود سے کوئی تشریح/تفسیر نہیں کرنی۔
(vi) غیرضروری اور فلسفیانہ مباحث میں الجھا دینا: انسان جب اللہ کے فضل سے شیطان کے ان حربوں کو ناکام بنادیتا ہے اور قرآن سیکھنا شروع کر دیتا ہے تو شیطان ایک اور خطرناک حملہ کرتا ہے۔ وہ انسان کویسی غیر ضروری بحثوں میں الجھا دیتا ہے جن کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ مثلاً اللہ کی کرسی‘ جنت و دوزخ اوربرزخ کی حقیقت وغیرہ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الْـکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ط فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغٌ فَـیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْـتِغَـآئَ الْفِتْـنَۃِ وَابْـتِغَــآئَ تَاْوِیْـلِہٖ ج } (آل عمران:۷)

’’وہی (اللہ) ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے‘ اس میں (ایک تو) آیاتِ محکمات ہیں‘ جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے‘ وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔‘‘
شیطان محکمات کی بجائے انسان کومتشابہات اور عملی زندگی کے لیےغیرضروری مباحث میں الجھا دیتاہے ۔ اقبالؒ نےشیطان کے اسی حربے کو شیطان کی زبانی یوں بیان کیا ہے: ؎
ہے یہی بہتر الہٰیات میں اُلجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے!
(ج) عربی سیکھنا
عربی زبان سیکھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے‘ یہ ایک احسن کام ہے‘ لیکن اگر کسی کو عربی نہیں آتی تو یہ قرآن نہ سیکھنے کا بہانہ نہیں ہوسکتا۔ علماء کرام کا ہم پر بہت احسان ہے کہ تقریباً ہر زبان میں قرآن کے تراجم اور تفاسیرموجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ عربی سمجھنا فی نفسہٖ مقصد نہیں ہے بلکہ مطلوب یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو سمجھ جائیں اور اس پر عمل کی فکر کریں۔ کیا ابولہب‘ ابوجہل ‘ولید بن مغیرہ‘ عمرو بن معدیکرب جیسے ادیب اور لبید جیسے شاعر کو عربی نہیں آتی تھی؟ جب ان کا مقصد قرآن سمجھ کر اسے دل میں اتارنا اور اس پر عمل کرنا نہیں تھا تو ’’عربی دان‘‘ ہونے کے باوجود گمراہ ہی رہے۔ یہی مسئلہ مستشرقین کا بھی ہے۔
قرآن سمجھنے کا اصل معیار(standard)
اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے:
{اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِط } (العنکبوت:۴۵)
’’بے شک نماز بےحیائی سے اور فحش کاموں سے باز رکھتی ہے۔‘‘
یعنی نماز کا اصل معیار یہ ہے کہ ایک مسلمان پر یہ اثر ہو کہ وہ فحاشی اور بےحیائی سے رک جائے۔ ہمیں اپنی نماز کو اس معیار کا بنانے کی کوشش کرنی ہے۔اسی طرح قرآن کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب ایک مسلمان قرآن پڑھے تو اس پرکیا اثر ات ہونے چاہئیں:
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (۲)} (الانفال)
’’ سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اورجب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنےربّ پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘‘
{اَللہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ق تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللہِ ط} (الزمر:۲۳)
’’اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا جو ایسی کتاب ہے جس کی آیات آپس میں ملتی جلتی ہیں‘ جو بار بار دہرائی جاتی ہیں‘ اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتےہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں‘ پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔‘‘
{وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُــوْا مِنَ الْحَقِّ ج یَـقُوْلُوْن رَبَّـنَـآ اٰمَنَّا فَاکْتُـبْـنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ(۸۳)} (المائدۃ)
’’جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول(ﷺ )پر اُترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں‘اور کہتےہیں کہ :پروردگار ! ہم ایمان لے آئے‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔‘‘
یہ ہے قرآن پڑھنے کااصل معیارِ مطلوب کہ جب مسلمان قرآن پڑھیں تو ان کے دل کی کیفیت ایسی ہو جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے۔ کیا قرآن پڑھتے وقت ہمارے دل لرزتے‘ رونگٹے کھڑے ہوتے یاآنکھوں سے آنسو امڈتے ہیں؟ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم قرآن سمجھ کرپڑھیں ۔
قرآن کااجتماعی مطالعہ(کلاس کا طریقہ کار)
استاد میسّر ہو تو اس سے سیکھنا افضل ہے ‘لیکن اگر کسی وجہ سے استاد میسر نہ ہو‘تو سیکھنے کا ایک نہایت فائدہ مند طریقہ اجتماعی قرآن کلاس ہے۔ ہم بارہ سال سے زیادہ عرصہ سے اس طریقہ کے مطابق قرآن سیکھ رہے ہیں اور اسے بہت ہی مفید پایا ہے۔ اس سےقرآن کے ایسے پہلو اور گوشے سامنے آجاتے ہیں جو انفرادی مطالعہ میں اکثر کھل کر سامنے نہیں آتے۔ یہ بات ضروری ہے کہ شرکاء دل کی دنیا صاف کرکے شریک ہوں تاکہ قرآن کی امانت اٹھانے کے لیے صلاحیت پیدا ہو اوربیان کردہ مطلوبہ اثرات مرتب ہوں۔ شرکاء میں یہ ذہنی ہم آہنگی ہو کہ ہم قرآن کا مطالعہ صرف علم کے لیے نہیں بلکہ اپنے فائدے اور عمل کےلیے کررہے ہیں۔
(۱) چند افراد مل کر گروپ بنائیں ۔بہتر ہے کہ تعداد بارہ سے زیادہ نہ ہو ‘افراد زیادہ ہوں تو دو گروپوں میں تقسیم کرلیں۔
(۲) ہر فرد کو ایک تفسیر تفویض کی جائے جس سے وہ مقررہ آیات کا پہلے سے مطالعہ کرکے آئے‘
(۳) ہر ہفتے کم ازکم ایک رکوع کا مطالعہ کیا جائے۔
(۴) مطالعہ میں عصر ِحاضر کے حالات جبکہ فقہی مسائل کے بارے میں جدید تفاسیر کے ساتھ قدیم تفاسیر کو بھی شامل کریں۔
(۵) کلاس کی ابتدا میں ایک فرد اپنی مقررکردہ تفسیر سے رکوع کی تلاوت‘ رواں ترجمہ‘ الفاظ کے معانی ا ور رکوع کا عمومی پیغام بیان کرے۔یہ کام ہر شریک اپنی باری پر کرے گا۔
(۶) الفاظ کے لغوی معانی کسی کتاب سے اختصارکے ساتھ بیان کریں‘ آیت میں لفظ کے متعلقہ اصطلاحی معنی واضح کیے جائیں۔زیادہ تفصیلات سے گریز کیاجائے تاکہ قرآن سیکھنے کااصل ہدف دھندلا نہ جائے۔عملی معانی پرخصوصی غور و فکر کیا جائے۔اس سےمراد کسی لفظ یا الفاظ کو اس تناظر میں سمجھنا ہے کہ میری عملی زندگی سے اس کا کیاربط اورتعلق (relevance & application) ہے! مثلاً ہم ’’اللہ اکبر‘‘ کے معانی کرتے ہیں: ’’اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ یہ سوچا جائے کہ کیا مَیں عملی زندگی میں اللہ کو واقعی ’’اکبر‘‘ سمجھتا ہوں! کہیں ایسا تو نہیں کہ میں پولیس کے سپاہی کے اشارے پر تو رک جاتا ہوں لیکن اللہ پکار پکارکر کہتا ہے کہ اس راستے کی طرف مت جاؤ لیکن میں نہیں رکتا؟ کیانعوذ باللہ عملاً میرے نزدیک اللہ کی بجائے پولیس کا سپاہی تو اکبر نہیں ہے؟ یہ اللہ اکبر کا عملی معنی ہے۔
(۷) متعلقہ فرد کی تشریح کے بعد ہر ممبر اپنی زیر مطالعہ تفسیر سے اس رکوع میں فکر و عمل کے حوالے سے پیغام شرکاء سے شیئرکرے۔پھر تمام شرکاء بحث میں حصہ لیں تاکہ رکوع کا پیغام کھل کر سامنے آجائے۔اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی فرد کی طرف سے بیان شدہ تفصیلات دوبارہ بیان نہ کی جائیں تاکہ وقت کا بہتر استعمال ہو سکے۔
(۸) عصری حالات کے تناظر میں رکوع کے پیغام پر غور و فکر کریں اور اہم نکات نوٹ کرلیں۔ مطالعہ میں جو نکات تفصیل طلب رہ جائیں اور جن کا جواب زیر مطالعہ تفاسیر میں نہ ملے تو اپنے طور پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہ کیا جائے‘ بلکہ ہر فرد بعد میں ان نکات کی تفصیل اور وضاحت کے لیے علماء کرام سے رجوع کرے ۔ ان کی بتائی ہوئی تشریح اگلی میٹنگ میں شیئر کر کے حتمی تشریح پر اتفاق کیاجائے ۔
(۹) عملی نکات:یہ مطالعہ کا سب سے اہم کام ہے۔ زیر مطالعہ آیات میں اپنی زندگی میں عمل کے لیے نکات کی نشان دہی کریں اور ان کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ ایک مقررہ فرد رکوع کا عمومی پیغام اور عملی نکات لکھ کر گروپ میں شیئر کرے۔ بعد میں کسی مستند عالم سے نظرثانی اور تصدیق کروا لیں تو بہتر ہوگا۔
اس طریق کار کے مطابق سورۃ العنکبوت‘رکوع۱کے عملی نکات بیان کیے جاتے ہیں:
(۱) مسلمان مشکلات و مصائب سے مایوس نہ ہوں۔ یاد رکھیں دنیا میں مشکلات مؤمنوں کے لیے عذاب نہیں بلکہ انہیں کندن بنانے اور اجر دوبالا کرنے کے لیے آتی ہیں۔ ہر حال اور مشکل میں دعوت و اقامت ِدین کا کام جاری رکھیں۔
(۲) مسلمان حق پر استقامت سے قائم رہیں تو بالآخر اللہ ان کو دنیا میں فتح یاب کرتا ہے۔ اس کی مثالیں ہم اس زمانے میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
(۳) بعض اوقات نزدیک ترین لوگ بھی دین میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ان کو کھلم کھلا بتا دیا جائے کہ دین کی بنیادوں پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا ‘چاہےوہ ناراض ہوجائیں ۔
(۴) یہ بڑی تسلی کی بات ہے کہ مؤمنوں سے بشری کمزوری کی وجہ سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اللہ معاف کر دیتا ہے‘البتہ کوشش کی جائے کہ گناہ سے اجتناب کیا جائے او ر توبہ و استغفار کی طرف توجّہ دی جائے۔
اس طرح جوعملی نکتہ/ حکم سمجھ آتا جائے اس کے مطابق عمل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتےجائیں۔ یہی وہ بات تھی جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی کی کایا پلٹ دی تھی اورایک جاہل قوم دنیا کی مہذب ترین قوم بن گئی تھی۔مسلمان قرآن اسی طرح پڑھیں جیسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پڑھتے اورسمجھتے تھے تو آج بھی ویسی ہی تبدیلی آسکتی ہے جیسے ان کی زندگی میں آئی۔صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ نے یہی بات یوں بیان فرمائی ہے:
’’اسے(قرآن) تو پوری طرح آپ اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب آپ اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی ہے اسی طرح قدم اٹھاتے جائیں۔ قرآن کے احکام‘ اس کی اخلاقی تعلیمات‘ اس کی معاشی اور تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصول و قوانین آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک آ ہی نہیں سکتے جب تک وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہو سکتی ہےجس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔‘‘
(مقدّمہ‘جلد اول ‘ص۳۴و۳۵)