(ہماری دعوت) قرآن : کتابِ ہدایت و انقلاب - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

17 /

قرآن: کتابِ ہدایت و انقلابڈاکٹر ضمیر اختر خان

اعوذ باللّٰہ مِنَ الشَّیطٰن الرَّجیم ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیْدًا(۲۸) } (الفتح)
{ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَـبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۲)} (الجمعۃ)

ان دونوں آیات کی تفسیر و تشریح بہت ہی عمدہ اور خوبصورت ہے ۔ ایک میں نبی اکرم ﷺ کا مقصد ِبعثت بیان ہوا ہے‘ اور دوسری میں نبی اکرمﷺ نے اپنے اُس مقصد کو پورا کرنے کے لیے جو اساسی منہاج اختیار فرمایا وہ بیان ہو رہا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت کا بندوبست کیا ہے اور یہی ہدایت آج ہمارا موضوع ہے یعنی قرآن‘ کتابِ ہدایت ۔ اس کے بعد انقلاب کا لفظ صرف دورِ حاضر میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ چونکہ اس لفظ کو بہت زیادہ استعمال کیا گیااور اس کا غلغلہ بھی بہت زیادہ ہے اور لوگ اس لفظ سے مانوس بھی بہت ہیں ‘ تو اس لیے ہم اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں‘ ورنہ یہ کوئی قرآن و حدیث کا لفظ نہیں ہے۔ یہ ہر دور کی ایک مجبوری ہوتی ہے کہ اس وقت کے محاورے کے مطابق گفتگو کرنی چاہیے‘ ورنہ اس انقلاب کے لفظ کو بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس آیت میں ارشاد فرما رہے ہیں:
{لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ ط}
’’تاکہ وہ اِس دین کو غالب کر دے‘‘
اگر ’’ہ‘‘ کی ضمیر سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ مراد لیں تو ترجمہ ہوگا: ’’اللہ غالب کردے۔‘‘ اُس نے اپنے دین کو مکمل کردیا ‘ کیا کوئی روک سکا؟ اس نے اپنے نورِ ہدایت کو مکمل کیا‘ کیا کسی نے روکا؟ اور اگر ’’ہ‘‘ ضمیر ہے محمد رسول اللہ ﷺکی طرف ‘تو انہوں نے جب اس دین کو غالب کرنے کی کوشش کی تھی تو ان کو روکا گیا۔ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ‘ ان کو طرح طرح کے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔لہٰذا میرے خیال میں یہاں جو ’’ہ‘‘کی ضمیر ہے‘ وہ جناب محمدﷺ کی طرف ہی ہے۔وجہ اس کی سمجھ میں بھی آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو فاعل حقیقی ہے‘ اس کے سامنے کون سی چیز ایسی ہے جو مشکل ہے؟ وہ ذات تو ’’کُنْ فَیَکونُ‘‘ کی شان سے اپنے دین کو غالب کر سکتا تھا‘ لیکن اللہ نے یہ ذمہ داری اپنے نبی کریمﷺ کے سپرد کی تھی۔
سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے!ویسے تو ضروریات کے انبار ہیں ۔آج ہر کوئی انہیں حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے ‘ بلکہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت بلکہ نعمت قرآن مجید ہے ۔ یہ ہدایت کا منبع و سر چشمہ ہے۔ دوکام ہیں: تکمیل ِقرآن اور غلبہ ٔ دین ۔ غلبہ ٔ دین کا کام محمدﷺ سے لیا گیا اور قرآن مجید کی اللہ نے خود تکمیل کر دی ہے۔
اب دوسرے لفظ انقلاب کی طرف آتے ہیں۔پوری تاریخ انسانی میں کامل ترین انقلاب کا داعی اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہﷺ ہیں‘ اپنی پوری شان کے ساتھ۔ ویسےتو آج ہر کوئی انقلابی بنتا ہے‘ جمہوری انقلابی بھی موجود ہیں ۔ انقلابِ نبویﷺ کا اساسی منہج/منہاج‘ ہمارے موضوع کادوسرا پہلو ہے۔ قرآن مجید کتابِ انقلاب ہے۔حضورﷺ نے جو انقلاب برپا کیااس کی بنیاد کون سی چیز تھی؟ کون سی چیز آپؐ نے اپنے ساتھیوں کے اندر انڈیلی ؟ان کے دل اور دماغ کو کس چیز کے اوپر راسخ کیا‘ کہ وہ انقلاب برپا ہو گیا؟ ظاہر ہے قرآن مجید! اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لہٰذاہم اپنی فکر کی آبیاری کے لیے قرآن کے ساتھ اتنی گہری وابستگی رکھیں کہ لوگ ہمیں مجنوں کہیں۔ ہم ایک انقلابی جماعت میں شامل ہوئے ہیں‘ اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں ۔اگر یہ کوشش نہیں کی تو اللہ ہم سے پوچھے گا‘اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے اس گھڑی سے‘ کہ : اچھا‘ تم نے بہت بڑا دعویٰ کیا تھا‘ تو کیا کر کے آئے ہو ؟
اگر غور کیا جائے تو انسان کی ضرورتیں بے شمار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسان کو کچھ قواعد و ضوابط کا پابند بنایا ہے۔ اگر وہ ان کو اختیار کر کے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے‘تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ البتہ ایک بنیادی ضرورت یہ بھی ہےکہ انسان اپنے اندر کو ٹھیک کرے۔ سب سے پہلے اس کا دل ٹھیک ہونا چاہیے۔
محترم ڈاکٹر اسرار احمد ؒ علامہ اقبال سے معذرت کرتے ہوئےع ’’سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف‘‘ کی بجائے ’’خاکِ حجاز و حولِ قدس‘‘ کہا کرتے تھے۔ حولِ قدس اور خاکِ حجاز سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے‘ وہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت نبی اکرمﷺ نےبایں طور فرمائی ہے:
((أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً ، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ)) (متفق علیہ)
’’سن لو ! انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو گا تو سارا بدن درست ہو گا‘اور جب وہ بگڑ جائے تو ا سارا بدن بگڑ جاتا ہے۔ سن لو! وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔‘‘
پھر اسی دل کے بارے میں فرمایا:
((إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ.)) قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: ((كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ)) (رَوَاہ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ)
’’یہ دل زنگ آلودہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے۔‘‘عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ان کی چمک کس طرح آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔‘‘
بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد ؒلطیف پیرائے میں بتاتے تھے کہ ہماری پی آئی اے نے جب عربوں کی دیکھا دیکھی سفر کی دعا پڑھنا شروع کی کہ :
{سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ(۱۳) وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ(۱۴)} (الزخرف)
تو موت سے الرجک ہمارے کچھ لوگوں نے کہا کہ دعا کو بس پہلی آیت تک رکھا کریں‘ اس لیے کہ دوسری آیت کے بعد تو جہاز میں بیٹھتےہوئے ہمیں ڈر لگتا ہے۔ آپ تو ہمیں پہلے ہی موت کی طرف لے جا رہے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون! اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید سے موت کی یاد دہانی نہ کرائی جائے کہ موت تمہارے سر پر منڈ لا رہی ہے۔کسی بھی وقت عزرائیل تمہیں اچک سکتا ہے اللہ کے حکم سے۔بہر حال یہ ضرورتیں تو اپنی جگہ ہیں‘ لیکن اصلاحِ دل کو ہمیں اپنی اولین ضرورت سمجھنا چاہیے۔ ہم دوبارہ اپنے مضمون کی طرف لوٹتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کی انسان پر سب سے بڑی نعمت کون سی ہو سکتی ہے؟ سورۃ الرحمٰن میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ بار بار فرماتے ہیں:{فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ} ’’تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟‘‘ سورۃ النحل میں بھی فرمایا گیا:
{وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوْھَاط}(آیت۱۸)
’’ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے۔‘‘
یعنی تم کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ اور کس کس نعمت کو تم شمار قطار میں لا سکتے ہو؟ اس کی تو تم گنتی بھی نہیں کر سکتے۔ ان تمام نعمتوں کو یکجا کیجیے توان میں سب سے غالب اور سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے۔ اگر ہدایت نہیں تو ساری نعمتیں زحمت بن جائیں گی۔ اس لیے اس کا احساس اور ادراک ہونا چاہیے۔ حضور اکرم ﷺسے کہلوایا جا رہا ہے:
{قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸)} (یونس)
’’کہہ دیجیے: (یہ سب) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے سبب ہے‘ پس انہیں چاہیے کہ وہ اس پر خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں۔‘‘
یہ قرآن وہ نعمت ہے جس پر کوئی بجا طور پر فخر کر سکتا ہے‘ اور اس کو واقعتاً فخر کرنا بھی چاہیے۔ جو کچھ تصور ہو سکتا ہے دنیا کی نعمتوں کا ‘ ان سب سے بڑھ کر یہ قرآن نعمت ہے۔ جن نعمتوں کے حوالے سے ہم کبھی کبھی پریشان ہوجاتے ہیں‘ کبھی صحت کا معاملہ ہوتا ہے‘ کبھی بیوی بچوں کے معاملات ہوتے ہیں‘ کبھی کچھ اور پریشان کن معاملات ہوجاتے ہیں ‘ تو قرآن مجید جیسی بڑی نعمت کا تصوّر آتے ہی جو چیزیں ہماری پاس ہیں‘ ہم ان پر اکتفا کر کے ہمیشہ ہشاش بشاش اور صحت مند رہیں گے‘ان شاءاللہ ۔ کوئی عارضہ لاحق نہیں ہوگا۔ اس بڑی نعمت کا احساس ہمیں ہر پریشانی سے بچائے گا۔ ہر دوسری نعمت کی قدر کرنا قرآن کی نعمت ہمیں سکھائے گی۔
قرآن مجید نوعِ انسانی کے لیے ہدایت ہے۔ کاش اُمّت ِمسلمہ بھی اس بات کو سمجھتی۔ یہ جو گلوبلائزیشن ہوئی ہے ‘ یہ اُمّت پوری انسانیت کو اس نعمت ہدایت سے مستفید کر سکتی تھی‘ لیکن بدقسمتی ہے کہ اُمّت سورہی ہے۔ نتیجتاً انسانیت اس ہدایت سے محروم ہے۔ اللہ جل جلالہٗ نےاس قرآن کو هُدًى لِّلنَّاسِ کہا ہے۔ پھر اس ہدایت سے جو لوگ مستفید ہوں گے ان کو بھی بتایاجارہا ہے کہ اگر کوئی اس کتاب سے استفادہ کرنا چاہتا ہے‘ تو ضرور کرے‘ ورنہ بہت بڑا خسارہ اٹھانا پڑے گا۔ انسانیت کو لازماًتقویٰ کی راہ پر آنا ہوگا۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس قرآن کو ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ بھی کہا ہے ‘ یعنی یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔ تقویٰ کا حصول اس ہدایت سے استفادے کی شرط لازم ہے۔کیا تقویٰ کسی خاص ہیئت کا نام ہے؟ کسی خاص لباس یا خاص وضع قطع کا نام ہے؟ یقیناً یہ تمام چیز یں اپنی اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں ‘ لیکن تقویٰ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ وہ فضا دنیا میں قائم کرنا کہ ہر شخص کا تعارف اللہ سے ہو جائے۔ہر برائی دب جائے‘ ہر اچھائی عام ہو جائے ۔ اگر یہ نہیں ہے اور باطل کا غلبہ ہےتو پھر تقویٰ کی آرزو کرنا اپنے آپ کو فریب اور دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی ہدایت دی ہے نبی اکرمﷺ کو‘جن کا منصب یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے قرآن کی تعلیمات کو کھول کر سادہ انداز میں بیان کریں۔ اللہ کا کلام تو ایک شاہانہ انداز ہے جب کہ نبی اکرم ﷺکا فرمان پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے آپ ﷺہماری زبان میں ہی ہمیں سمجھا رہے ہیں۔ حضورﷺ سے محبت کا تقاضاہے کہ ہمیں ایسےمحسوس ہو جیسے یہ ہمارے دل کی آواز ہے۔
حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا جب فتنوں کی یلغار ہوگی۔ ان آزمائشوں اور فتنوں سے نکلنے کے لیے حضور اکرمﷺ نے ہمیں اس کتابِ ہدایت کی طرف متوجہ فرمایا‘ اہل ِایمان کو بالخصوص تاکہ وہ دوسرے انسانوں کو بھی متوجہ کریں کہ فتنوں سے بچنا چاہتے ہو تو یہ ہے راستہ۔ چنانچہ حدیث کے راوی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ دریافت کیا: مَاالْمَخْرَجُ مِنْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((کِتَابُ اللّٰہِ))اللہ کی کتاب ہے فتنوں سے بچنے کے لیے۔
((کِتَابُ اللّٰہِ، فِیْہِ نَبَاُ مَا قَبْلَکُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ، ھُوَ الْفَصْلُ لَیْسَ بِالْھَزْلِ، مَنْ تَرَکَہُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللّٰہُ))
’’اللہ کی کتاب ------ اس میں تم سے پہلے (کی اُمتوں) کی خبریں ہیں‘ تمہارے بعد (آنے والے واقعات) کی اطلاع ہے‘ اور تمہارے درمیان فیصلے کرنے کا حکم ہے۔ یہ فیصلہ کن (کلام) ہے‘ کوئی کھیل تماشا نہیں۔ جو بھی سرکش اسے چھوڑ دے‘ اللہ اسے ہلاک کر دے گا۔‘‘
ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ۔ اللہ کے ایک بندے ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے ذریعے سے ہم اس قرآن سے وابستہ ہوئے۔ رجوع القرآن کی تحریک سے ہم واقف ہیں۔ ہمارا تعلق اگر قرآن سے نہیں جڑتا تو ایسا ہماری کاہلی‘ سستی یا شیطان کے وار کی وجہ سے ہے۔ شیطان کا بھی اگر ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں تو پھر ہم کیسے مجاہد ہیں!یہ بہت غور طلب اور ڈرنے کی بات ہے۔کہیں ایسا نہ ہو‘ اس حدیث کا ہمارے اوپر اطلاق ہو جائے کہ ہم قرآن کو اہمیت نہیں دے رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مزید فرمایا:
وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ، وَھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ ‘ وَھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ، وَھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ، ھُوَ الَّذِیْ لَا تَزِیْغُ بِہِ الْاَھْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِہِ الْاَلْسِنَۃُ، وَلَا یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِیْ عَجَائِبُہُ، ھُوَ الَّذِیْ لَمْ تَنْتَہِ الْجِنُّ اِذْ سَمِعَتْہُ حَتّٰی قَالُوْا: {اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا}
’’اور جس نے ہدایت کو اس (قرآن) کے علاوہ کہیں اور تلاش کیا‘ اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ یہی اللہ کی مضبوط رسّی ہے‘ یہی حکمت بھری نصیحت ہے‘ اور یہی سیدھا راستہ ہے۔ یہ وہ (کتاب) ہے جس سے خواہشات بھٹکتی نہیں‘ زبانیں اسے خلط ملط نہیں کرسکتیں‘ علماء اس سے کبھی سیر نہیں ہوتے‘ زیادہ پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا‘ اور اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ وہ (کتاب) ہے جسے جب جنوں نے سنا تو کہنے لگے: ’’بے شک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘
یہ ہے وہ ہدایت جس کی ہمیں قدر کرنی ہے۔ اب ہم اپنے دوسرے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ قرآن مجید کتابِ ہدایت ہے اور اسی ہدایت کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ پر مکمل کیا ۔ازروئے الفاظِ قرآنی:
{ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ }(المائدۃ:۳)
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔‘‘
{ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ }
’’اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے۔‘‘
تو اس میں آپ ﷺکی بعثت کا بھی فوری طور پر ذکر کر دیا تاکہ اتمامِ نور اوراتمامِ ہدایت کا تقاضا اہل ِایمان کے سامنے رہے۔ سورۃ الصف میں ارشاد ہوا:
{یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ(۸)}
’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں‘ حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا‘ چاہے کافر ناپسند کریں۔‘‘
یہی مضمون سورۃ التوبہ(آیت۳۲)میں قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ آیا۔ اس کے بعد دونوں مقامات پر اگلی آیت میں فرمایا:
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ(۹)} (الصف)
’’وہی ہے(اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول ؐ کو الہدیٰ اور دین ِحق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کر دے پورے نظامِ حیات پر خواہ یہ مشرکوں کو ناگوار گزرے۔‘‘
حضور ﷺکی کوشش ہوتی کہ جبرائیل علیہ السلام جب آپ ﷺکو قرآن سناتے تھے تو آپﷺ جلدی جلدی دہراتے رہتے تاکہ ان کے جانے سے پہلے پہلے اس کو یاد کرلیں ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا آپ فکر نہ کیجیے :
{ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ(۱۷)}(القیامۃ)
’’ہمارے ذمے ہے اس کا پڑھوانا بھی اور جمع کرانا بھی۔‘‘
اس کا مطلب ہے کہ حضور اکرم ﷺکو اس مشقت سے بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نکالا۔ جو کام حضور اکرم ﷺسے اللہ تعالیٰ نے لینا تھا اور جو آپﷺ کی بعثت کا مقصد مقرر ہوا ‘وہ اللہ کے دین کو اس زمین کے اوپر غالب کرنا تھا ۔ یہ وہ مشکل کام تھا جس کے لیے نبی اکرم ﷺ نے دن دیکھا نہ رات دیکھی اور اپنے آپ کو اس کام میں لگا دیا ‘ تب جا کر اللہ کا دین غالب ہوا۔ آپ ﷺ نے اس پر اللہ کو گواہ بھی بنالیا:’’اے اللہ !یہ میرے ساتھی بھی گواہی دے رہے ہیں‘ مَیں نے نہ صرف پہنچایا بلکہ ان کے سامنےاس کا عملی مظاہرہ بھی پیش کر دیا ہے۔ صرف میں نے ابلاغ ہی نہیں کیا‘ صرف تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ اس دین کے لیے اللہ کے دشمنوں کو زیر بھی کیا ہے اور ان کے ساتھ لڑا بھی ہوں‘ میدانِ جنگ میں بھی اترا ہوں۔اے اللہ! تو بھی اس پر گواہ رہنا! ‘‘
یہ سارے کام حضور ﷺنے کیے ہیں۔ اب ایک عرصہ بیت گیا ہے کہ اللہ کا دین مکمل طور پر زمین بوس ہے۔ پوری عمارت جو محمد رسول اللہ ﷺنے کھڑی کی تھی‘ گری پڑی ہے۔ اللہ کا دین غالب کر کے نبی اکرم ﷺنے اپنے صحابہ ؓ کے سپرد کر دیا اور ان میں سے جو چار خلفائے راشدین تھے‘انہوں نے اس غلبہ کو مستحکم کرنے کا حق بھی ادا کر دیا ۔ لہٰذا ان کا دور عین نبوت کے طریق پر ہے‘یعنی خلافت علیٰ منہاج النّبوّۃ۔ ان کے بعد ایک عرصہ تک شکستہ حالت میں دین کی عمارت کھڑی رہی‘ تاہم ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو وہ بھی دھڑام سے گر پڑی اور خلافت مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ آج اللہ کا دین مغلوب ہے۔ اب اس امت سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ میں نے اپنے وعدے پورے کیے‘ تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو۔تمہارا کام یہ ہے کہ اپنے نبی کے ساتھ وفاداری نبھاؤ۔ اس وقت دنیا میں اگر باطل غالب ہو ‘ حق مغلوب ہو جبکہ امت مزے کر رہی ہو‘مسلمان اپنے اپنے کاموں میں پھنسے ہوئے ہوں‘ دنیا کے معاملات اور مسائل کو دنیاوی معیارات کے مطابق حل کرنے کے لیے سوچ بچار کررہے ہوں تو پھر یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وفاداری نہیں ہے۔ اس دین کے لیے حضور ﷺکا خون بہا۔ کیا یہ باتیں ہمیں یاد آتی ہیں اور اس وقت ہم تڑپ جاتے ہیں؟تکمیلِ نور تو ہو چکی‘ تکمیل ِدین نظری طور پر بھی ہو گئی اور جزیرۃ العرب کی حد تک عملی طور پر دین غالب بھی ہوگیا ۔اب عالمی سطح پر اس کو مکمل کرنا اس اُمّت کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری فکر کی بنیاد میں قرآن مجید موجود ہے ۔ گو کہ ہم کم کوش ہیں ‘محنتی نہیں ہیں‘ لیکن الحمد للہ یہ ہمارےلیے بہت بڑا سہارا ہے۔
جب بنیاد میں قرآن ہے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ پانی موجود ہو تو وہاں سے کوئی نہ کوئی ہریالی کسی نہ کسی درجے میں پھوٹے گی‘ ان شاءاللہ۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے اور اس کی ہم نے قدر کرنی ہے۔ اب یہیں سے ہم طے کر کے اٹھیں کہ‘ ان شاء اللہ‘ ایک پارہ روزانہ تلاوت کریں گے۔ یہ ہمیں گراں نہیں گزرے گا ۔ہم روزانہ تلاوت کر کے سوئیں گے۔ جس دن ہم نے تلاوت نہ کی ہوتو ہمیں بالکل ایسے ہی محسوس ہونا چاہیے جیسے آج کھانا نہیں کھایا۔ ہمیں کوئی کمی محسوس ہو رہی ہو۔
منہج ِنبوی ﷺ ایک پورا انقلابی پروسیس ہے۔جو چھ مراحل ’’منہج ِانقلابِ نبویؐ ‘‘میں بیان ہوئے ہیں ‘ہم ان سے خوب اچھی طرح واقف ہیں ۔ ان میں سے ایک اساسی منہج کی طرف میں آپ کی توجّہ مبذول کراؤں گا کہ وہ رجالِ کار‘ وہ جواں ہمت لوگ ‘وہ مردانِ خودآگاہ وخدا مست ‘ وہ تیار کیسے ہوئے تھے۔ ان کو بنایا کیسے حضور اکرم ﷺنے۔ ایسی نرالی شان والے نہ تاریخ نے پہلے کبھی دیکھے تھے‘ نہ بعد میں کبھی ویسے نظر آئیں گے۔وہ کیسے وجود میں آئے تھے؟اس کی وضاحت کے لیے دوسری آیت آپ کے سامنے تلاوت کی گئی تھی:
{ ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَق } (الجمعۃ:۲)
’’وہی تو ہے جس نے اٹھایا اُمیّین میں ایک رسول اُن ہی میں سے‘ جو اُن کو پڑھ کر سناتا ہے اُس کی آیات اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کتاب وحکمت کی۔‘‘
چار کام کیے حضور ﷺنے صحابہ کرام پر ۔ جن پر کام کیا گیا وہ انبیاء کے بعد اس دھرتی کے اوپر سب سے بہترین انسان بن گئے! رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ۔ وہ بھی اللہ سے راضی ہو گئے اور اللہ بھی ان سے راضی ہوگیا۔ عرب کے اس ماحول میں ان کی زندگیاں گزر گئی تھیں‘ لیکن ان کی شان یہ تھی کہ ع : ’’ خودنہ تھے جو راہ پہ اوروں کے ہادی بن گئے۔ ‘‘وہ کس وجہ سے بنے؟انہوں نے چار کام کیے اور ان چاروں کی حیثیت بنیاد ‘مرکز یا محور کی سی ہے۔
چنانچہ توجہ کیجئے یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ کی طرف ۔ تلاوتِ آیات ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب تلاوت کیا کرتے تھے تواس کا مفہوم بھی سمجھ رہے ہوتے تھے۔لہٰذا ہمیں بھی سمجھ کر تلاوت کرنی چاہیے‘ اگر چہ مجرد تلاوت کو بھی معمولی کام نہ سمجھیں ۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ تلاوت تو بغیر ترجمہ کے ‘بغیر فہم کے بےکار ہے۔یہ بہت ہی غلط سوچ ہے۔فہم اپنی جگہ ایک بہت بڑا اور مستقل موضوع ہے اور ہمارے لیے یہ کوئی اجنبی چیز بھی نہیں ہے‘لیکن قرآن کے ساتھ صرف ایک لگاؤبھی بہت بڑی بات ہے ۔حضور ﷺسے بڑھ کر قرآن کا فہم رکھنے والا کوئی شخص نہیں ہو سکتا‘ لیکن آپ ﷺ کو بھی حکم دیا گیا:
{اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ }(العنکبوت:۴۵)
’’آپ پڑھتے رہا کیجئے جو کچھ آپ کی طرف کتاب میں سے نازل کیا گیا ہے۔‘‘
اور آپ اس کا حق کس طرح سے ادا کر رہے ہیں؟
{یٰٓــاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا(۲) نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا(۳) اَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا(۴)}
’’اے اوڑھ لپیٹ کر لینے والے! رات کو (نماز کے لیے) قیام کرو سوائے اس کے تھوڑے سے حصے کے۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلو ‘یا اس پر کچھ بڑھا دو‘ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف انداز میں) پڑھو۔ ‘‘
یہ ہے‘ حضور اکرمﷺ کا اسوہ۔
اس کے بعد دوسری چیز ہے: ’’تزکیہ۔‘‘آج ہم جب تک تزکیہ کے ساتھ ’’نفس ‘‘ کا لفظ نہ لگائیں تو شاید بات مکمل نہیں ہوتی ۔ ہم کہتے ہیں : ’’تزکیۂ نفس ۔‘‘قرآن مجید میں ’’نفس ‘‘ کا ذکر ان آیات کے ساتھ نہیں آیا ‘البتہ دیگر مقامات پر آیا ہے ۔جیسے سورۃ الشمس میں فرمایا گیا:
{وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىہَا(۷) فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰىہَا(۸)}
یہاں خصوصی طور پر کیوں اس تزکیہ کا ذکر کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلابی فکر سب سے پہلے دل اور دماغ میں راسخ ہونی چاہیے۔ اگر دل و دماغ میں یہ فکر راسخ ہو گی تو پھر انسان عملاً متحرک ہوگا‘ motivate ہوگا ۔اگر کسی شخص کو یہ بتایا جائے کہ آپ کے والد پر حملہ ہو گیا ہے تو وہ دائیں بائیں ہو کر فوراً پہنچے گا۔اپنے والد کو ریسکیو کرے گا کہ نہیں؟ آج اللہ کا دین سرنگوں ہے‘ محمد رسول اللہ ﷺکا لگایا ہوا پودا زمین بوس ہے اور ہم تزکیہ کا طریقہ لے کر کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر اللہ ہو‘ اللہ ہو‘ اللہ ہو کرتے رہیں۔ محمد ﷺنےکسی کونے کھدرےمیں بیٹھ کر’’ لا الٰہ اِلا اللہ‘‘ کا ورد نہیں کیا۔’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے‘‘۔ اس سے کیا مراد ہے؟ یعنی جس طرح اُس کے علاوہ کسی اور کے سامنے سجدہ نہیں ہو سکتا‘ اسی طرح اس کے علاوہ کسی اور کی اتھارٹی بھی تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ اُس کے علاوہ کوئی اور حاکم نہیں ہے۔اُس کے علاوہ کسی اور کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی بات دوسروں سے منوائے۔ اللہ ہی کی طاقت ہے‘ اس کے سامنے سب جھک جائیں۔ تزکیہ کو ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت خوبصورت طریقے سے سمجھایا کہ انسان جب قرآن کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے تو اس کا اندر بدل جاتا ہے۔بانی محترم علامہ اقبال کا سہارا لے کر کہتے ہیں:
چوں بجاں دَر رَفت جاں دیگر شَوَد
جاں چو دیگر شُد جہاں دیگر شَوَد!
جب قرآن کسی کے اندر اترتا ہے‘ تو اس کے اندر کو بدل دیتا ہے۔صرف ایک جان نہیں بدلتی‘ صرف ایک individual نہیں بدلتا‘ بلکہ وہ پورے جہاں کو بدلنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ ہے تزکیہ کا اصل مفہوم۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:؎
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
آیات کی تلاوت‘ تزکیہ‘ تعلیم کتاب‘ تعلیم حکمت کا اوّلین مصداق قرآن مجید ہے۔ تا ہم‘ اس کے ساتھ ہم سُنّت ِ رسول اور حدیث نبوی ﷺکو بھی جوڑتے ہیں۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن جیسی ہدایت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو انقلابی فکر ’’اظہارِ دین‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری سمجھ میں آئی ہے‘ اس پر خود عمل کرتے ہوئے جدّوجُہد کریں۔شاید دور تک ہمیں کوئی اثرات نظر آ جائیں کہ انقلاب آ رہا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں نہ بھی آیا‘ پھر بھی ہم سرخرو ضرور ہوں گے‘ان شاء اللہ!
(تنظیم اسلامی کے سالانہ اجتماع۲۰۲۴ء میں کیا گیا خطاب)